بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھوں کے معائنے سے متعلق معاملے پر سپریم کورٹ نے 12 فروری کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق فرینڈ آف دی کورٹ نے رپورٹ جمع کرا دی جبکہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپریٹنڈنٹ کی رپورٹس کے بعد 23 اور 24 اگست 2023 کے حکمنامے پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق معاملہ غیر موثر ہو چکا ہے۔

عدالت نے توشہ خانہ سے متعلق موجودہ درخواستوں کو غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ درخواستیں ہائیکورٹ میں مرکزی اپیل کے فیصلے کے بعد دوبارہ فکس کی جائیں گی۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 23 اور 24 اگست 2023 کے احکامات کے احترام میں سماعت کی اور ان عدالتی سماعتوں میں کہا گیا تھا کہ مزید کارروائی سے قبل ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کے مطابق ہائیکورٹ میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف توشہ خانہ سے متعلق اپیل زیر التواء ہے اور درخواست گزار کو حق ہے کہ وہ تمام اعتراضات ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائے۔

عدالت نے کہا کہ حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے لیونگ کنڈیشن پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے کوئی ایسی شکایت نہیں کی جس سے موجودہ سہولیات سے بڑھ کر کسی اضافی انتظام کی ضرورت ہو۔

سپریم کورٹ کے مطابق فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپریٹنڈنٹ کی رپورٹس میں لیونگ کنڈیشن سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے بانی پی ٹی آئی کے بچوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفونک رابطے کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالت کو بانی پی ٹی آئی کی جیل میں رہائشی حالات سے متعلق خدشات دور ہو چکے ہیں اور 24 اگست 2023 کے حکم میں ظاہر خدشات دور ہو چکے ہیں جبکہ اس حکم کی تعمیل بھی ہو چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق زیر سماعت درخواستیں میرٹس کی بنیاد پر غیر موثر ہو چکیں، پہلی دو درخواستوں میں چیلنج کیے گئے ٹرائل کورٹ کے احکامات 5 اگست 2023 کے توشہ خانہ کے حتمی فیصلے میں ضم ہو چکے ہیں۔

توشہ خانہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بانی پی ٹی آئی پہلے ہی ہائیکورٹ میں چیلنج کر چکے ہیں، حتمی فیصلے کے بعد مقدمہ منتقل کرنے کی تیسری درخواست بے اثر ہو چکی ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ پر اٹھائے گئے اعتراضات کے خلاف مرکزی اپیل ہائیکورٹ میں زیر التواء ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید شکایت ہو تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں اور درخواست گزار کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی سپریم کورٹ نے لیونگ کنڈیشن ہائیکورٹ میں ٹرائل کورٹ اگست 2023 کے توشہ خانہ کے فیصلے چکے ہیں

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ