Daily Sub News:
2026-07-24@02:27:46 GMT

امن مگر ہوشیاری کے ساتھ

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

امن مگر ہوشیاری کے ساتھ

امن مگر ہوشیاری کے ساتھ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 February, 2026 سب نیوز

تحریر: محمد محسن اقبال


جب پاکستان نے چند اسلامی ممالک کے ساتھ ڈیووس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے قائم کردہ امن بورڈ میں شمولیت کے معاہدے پر، امریکی صدر کی موجودگی میں، دستخط کیے تو مختلف حلقوں سے تنقید کی آوازیں بلند ہوئیں۔ بعض نے سوال اٹھایا کہ جب اقوام متحدہ پہلے ہی امن اور تعمیرِ نو کے لیے موجود ہے تو اس نئے فورم کی کیا ضرورت ہے؟ کچھ نے پسِ پردہ محرکات پر شبہ ظاہر کیا اور کچھ کو سفارتی الجھنوں کا اندیشہ ہوا۔ تاہم جو لوگ تاریخ کو جذبات کے بجائے سنجیدگی سے پڑھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایسے پلیٹ فارم میں شرکت نہ سادہ لوحی ہے اور نہ محض علامتی ہم آہنگی؛ بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا اقدام ہے جو یادداشت، تجربے اور بیداری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔


پاکستان بین الاقوامی وعدوں کی طرف تاریخی بھول کے ساتھ نہیں بڑھتا۔ اس کی قیادت—سیاسی ہو یا عسکری—ان سانحات سے بخوبی آگاہ ہے جن میں عالمی تحفظ کے بلند بانگ دعوے فیصلہ کن گھڑی میں خاموشی میں بدل گئے۔ آج پاکستان اور اس کی مسلح افواج کی قیادت پر جو عالمی توجہ مرکوز ہے، وہ بے سبب نہیں۔ پاکستان نے براعظموں میں اقوام متحدہ کے تحت امن مشنز میں طویل خدمات انجام دی ہیں۔ اسے امن قائم رکھنے کی عظمت کا بھی ادراک ہے اور بے جا انحصار کے خطرات کا بھی۔ یہی متوازن شعور اس کے موجودہ طرزِ عمل کی تشکیل کرتا ہے؛ یعنی اشتراک بھی، مگر فریب سے محفوظ رہتے ہوئے؛ تعاون بھی، مگر بیداری کے ساتھ۔


بوسنیا کی یاد اس امر کی سنجیدہ دلیل ہے کہ ہر وعد? تحفظ کے ساتھ احتیاط لازم ہے۔ جولائی 1995ء میں، قصبہ سریبرینیکا جسے اقوامِ متحدہ نے‘‘محفوظ علاقہ’’قرار دیا تھا—دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک کا گواہ بنا۔ اس محصور شہر کی حفاظت ڈچ امن دستوں کے سپرد تھی جو اقوام متحدہ کی امن فورس کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے۔ یہ فورس 1992ء میں یوگوسلاویہ کی جنگوں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قائم کی گئی تھی، خصوصاً بوسنیا اور کروشیا میں۔ اس کے فرائض میں علیحدگی کے علاقوں اور اسلحہ کنٹرول پوائنٹس کی نگرانی اور اسلحہ کے اخراجی زونز کی دیکھ بھال شامل تھی۔ الفاظ میں مینڈیٹ واضح تھا، مگر عمل میں ابہام تھا۔ ڈچ بٹالین کو ہزاروں بوسنیائی مسلمان شہریوں کی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا تھا جو پیش قدمی کرتی سرب افواج سے پناہ لینے آئے تھے۔
سانحے سے ایک شام پہلے لی گئی ایک تصویر بعد ازاں المیے کی علامت بن گئی؛ ڈچ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل تھوم کاریمانس سرب فوجی کمانڈر جنرل راٹکو ملاڈیچ کے ساتھ جام اٹھائے گفتگو کر رہے ہیں۔ اس لمح? فانی میں سفارت کاری کو گویا دشمنی پر غلبہ حاصل تھا۔ یقین دہانیاں دی گئیں، اعتماد کا اظہار ہوا، مگر مذاکرات کی ظاہری چمک کے نیچے ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی پوشیدہ تھی۔


اس سے قبل سریبرینیکا میں موجود بوسنیائی مسلمان محافظین محدود وسائل کے باوجود کئی حملے پسپا کر چکے تھے۔ لیکن بین الاقوامی دباؤ اور اقوامِ متحدہ کے تحفظ کے وعدے کے احترام میں انہیں اپنے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا گیا۔ کمانڈر کاریمانس نے یقین دلایا کہ اقوامِ متحدہ ان کی سلامتی کی ضامن ہوگی۔ عالمی برادری کی ساکھ پر اعتماد کرتے ہوئے بہت سوں نے اس پر عمل کیا۔ اسلحہ رکھ دیا گیا، دفاعی مورچے خالی کر دیے گئے۔ لوگوں نے سمجھا کہ نیلی ٹوپیاں ناقابلِ تسخیر ڈھال کی علامت ہیں۔
مگر صبح ہوتے ہی یہ سراب ٹوٹ گیا۔ سرب افواج منظم انداز میں سریبرینیکا میں داخل ہو گئیں۔ نیٹو کی فضائی مدد کے لیے اپیلیں تاخیر اور تساہل کا شکار ہوئیں۔ جب محدود فضائی حملوں کی اجازت ملی بھی تو وہ ناکافی ثابت ہوئے۔ فیصلہ کن لمحے پر ڈچ امن دستوں نے مسلح مزاحمت نہ کی۔ اس کے بجائے انہوں نے مردوں اور لڑکوں کو عورتوں اور بچوں سے‘‘جانچ پڑتال’’کے نام پر الگ کرنے کی نگرانی کی۔ دل خراش مناظر میں خاندان اُن نگاہوں کے سامنے بکھر گئے جو حفاظت پر مامور تھیں۔
اگلے چار دنوں میں آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو منظم طریقے سے قتل کیا گیا۔ اجتماعی قبریں خاموشی میں بھری گئیں اور بعد ازاں غم کے ساتھ کھودی گئیں۔ سریبرینیکا کا قتلِ عام اچانک ابھرنے والا جنون نہ تھا، بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بند مہم تھی جو ایک بین الاقوامی فورس کی موجودگی میں انجام دی گئی جس نے نہ فیصلہ کن مداخلت کی اور نہ اس ظلم کو روک سکی۔ بعد کی تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں نے اسے نسل کشی قرار دیا۔ برسوں بعد نیدرلینڈ کی عدالتوں نے بھی بعض متاثرین کے تحفظ میں ناکامی پر جزوی ذمہ داری تسلیم کی۔
یہ سانحہ محض حملہ آوروں کی درندگی کی داستان نہیں تھا؛ یہ اُس نظام کی ناکامی کی بھی شہادت تھا جس نے تحفظ کا وعدہ کیا مگر اسے نبھا نہ سکا۔ کمزور آبادی کو تحفظ کی یقین دہانیوں کے سائے میں غیر مسلح کر دینا اس باب کا سب سے ہولناک سبق ہے۔ یہی وہ تنبیہ ہے جو قرآنِ حکیم میں بیان ہوئی:‘‘کافر چاہتے ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہو جاؤ تاکہ وہ تم پر ایک ہی بار حملہ آور ہو جائیں’’(النساء 4:102)۔ یہ آیت جارحیت کی دعوت نہیں دیتی؛ یہ بیداری اور تیاری کا حکم دیتی ہے، حتیٰ کہ اُن لمحوں میں بھی جو بظاہر پُرسکون دکھائی دیں۔
سریبرینیکا کو یاد کرنا ماضی کی قید میں رہنا نہیں، بلکہ ہوشیار رہنا ہے۔ حقیقی تحفظ محض دستخطوں یا رسمی اجتماعات میں نہیں، بلکہ تیاری، اتحاد اور اللہ پر غیر متزلزل توکل میں مضمر ہے۔ بین الاقوامی تعاون کی اپنی جگہ ہے؛ سفارت کاری ناگزیر ہے؛ تعمیرِ نو کے اقدامات آگے بڑھنے چاہییں۔ مگر کوئی بھی قوم—خصوصاً وہ جو عالمِ اسلام کی کمزوریوں سے آگاہ ہو—غفلت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
چنانچہ غزہ کے لیے امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کو اسی زاویے سے سمجھنا چاہیے۔ وہ اس میز پر موجود رہنا چاہتا ہے جہاں فیصلے تشکیل پاتے ہیں—محض نتائج کا خاموش وصول کنندہ بن کر نہیں، بلکہ اپنے اصولوں کا فعال محافظ بن کر۔ اسلامی ممالک، جنہوں نے دیکھ لیا کہ امن کی زبان کس طرح ایک بار قتلِ عام کے ساتھ ہم عصر ہو گئی تھی، انسانی ہمدردی کے عنوان تلے خون کی منڈی کو دوبارہ گرم نہیں ہونے دے سکتے۔
تاریخ دائمی بدگمانی کا تقاضا نہیں کرتی، مگر باخبر بیداری کا حکم ضرور دیتی ہے۔ بوسنیا کا سبق نہ تنہائی ہے نہ ہتھیار ڈال دینا؛ بلکہ متوازن قوت ہے۔ جو قوم سریبرینیکا کو یاد رکھتی ہے وہ معاہدوں پر آنکھیں کھلی رکھ کر دستخط کرتی ہے، اپنے دفاع کو برقرار رکھتی ہے، اور اپنی آخری امید نازک ضمانتوں پر نہیں بلکہ ایمان کی رہنمائی میں کی گئی تیاری پر رکھتی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہنگری کے سفیر ذولتان وارگہ کا ایف پی سی سی آئی کا دورہ ، صدر عاطف اکرام شیخ سے ملاقات واشنگٹن اسٹیٹ: ایورگرین ریاست عنوان: جنت ایک درخت کی آغوش میں ریاستی اختیار اور انتظامی ذمہ داری فیفا ورلڈ کپ 2026 کا جادوئی جوش: ڈسکوری گرین پارک میں دیوہیکل ٹرافی نے ہیوسٹن کو رونق دے دی روڈ آئی لینڈ: سمندری ریاست الینوائے:– جہاں وسیع میدانوں کی ہریالی، شیکاگو کی آسمان چھوتی عمارتیں، زرعی دولت، مالیاتی طاقت، صنعتی میراث، ثقافتی تنوع، اور اب تیزی سے ابھرتی.

.. TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف