بولان، مولانا ذوالفقار سعیدی کا مختلف علاقوں میں دینی مراکز کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
مختلف علاقوں میں دینی مراکز کے دورے کے موقع پر مولانا ذوالفقار سعیدی نے کہا کہ علم کی بہت بڑی اہمیت ہے، خصوصاً دینی علم انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس علماء مکتب اہلبیت بلوچستان کے صوبائی صدر مولانا ذوالفقار علی سعیدی نے ضلع بولان کے مختلف علاقوں بھاگ، چھلگری، بختیار آباد اور دیگر مقامات میں قائم دینیات مراکز کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مراکز میں زیر تعلیم طلباء و طالبات سے امتحان لیا اور ان کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران مولانا ذوالفقار علی سعیدی نے معلمین کرام سے بھی ملاقات کی، ان کی کاؤشوں کو سراہا اور دینی تعلیم کے فروغ میں ان کی خدمات کو قابل تحسین قرار دیا۔
انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ایک باشعور اور باکردار نسل تیار ہو سکے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں انہوں نے طلباء سے کہا کہ علم کی بہت بڑی اہمیت ہے، خصوصاً دینی علم انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے بچوں کو محنت، لگن اور اخلاص کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ دینی مراکز ہمارے معاشرے کی بنیاد ہیں، ان کی مضبوطی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا ذوالفقار انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔