نمیبیا کے خلاف اہم میچ، قومی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
قومی ٹیم کی مینجمنٹ نمیبیا کے خلاف اہم میچ کے لیے پلیئنگ الیون میں تبدیلیوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس میچ میں دو سے تین تبدیلیاں متوقع ہیں اور سینئر کھلاڑیوں کی جگہ بینچ اسٹرینتھ کو موقع دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
پاکستان کے لیے یہ مقابلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر قومی ٹیم نمیبیا کے خلاف شکست سے دوچار ہوتی ہے تو سپر ایٹ مرحلے میں رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر میچ بارش کی نذر ہو جاتا ہے تو پاکستان کو ایک پوائنٹ مل جائے گا جس کے بعد اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت سے شکست کے بعد سابق کرکٹرز نے ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کی تھی اور بعض نے بابر اعظم، شاہین آفریدی اور شاداب خان کو ڈراپ کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
مزید پڑھیںٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی
ذرائع کے مطابق نمیبیا کے خلاف میچ میں چند سینئر کھلاڑیوں کو آرام دیے جانے کا امکان ہے۔ شاہین آفریدی کی جگہ سلمان مرزا کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ بابر اعظم کی جگہ فخر زمان کو موقع دیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح شاداب خان یا محمد نواز کی جگہ نسیم شاہ کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
حتمی پلیئنگ الیون کا اعلان میچ سے قبل کیا جائے گا جبکہ ٹیم مینجمنٹ اہم مقابلے میں متوازن کمبینیشن میدان میں اتارنے کے لیے مشاورت کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نمیبیا کے خلاف کے لیے کی جگہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔