اسلام ٹائمز: پاکستانی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ ہر قسم کے حالات میں، خواہ وہ کشیدگی ہو یا مذاکرات کا عمل، رہبر انقلاب کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ایران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ایرانی قونصل جنرل نے پاکستانی وفد کے اس واضح مؤقف کو دونوں برادر ممالک کے گہرے اور تاریخی تعلقات کی علامت قرار دیا اور مشکل وقت میں پاکستانی قیادت اور عوام کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

پاکستان کے علما اور سیاسی رہنماؤں کی ایک نمائندہ وفدنے کراچی میں جمہوری اسلامی ایران کے قونصل جنرل "آقائ اکبر عیسی زادہ" سے ملاقات کی۔ اس وفد میں مختلف مکاتب فکر کے علما، سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور مختلف مذاہب کے نمائندے شامل تھے۔ وفد نے اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے مکمل اظہار یکجہتی کیا اور حالیہ امریکی دھمکیوں اور دشمنانہ بیانیے کو شدید الفاظ میں مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا یہ رویہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ ہر قسم کے حالات میں، خواہ وہ کشیدگی ہو یا مذاکرات کا عمل، رہبر انقلاب کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ایران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ایرانی قونصل جنرل نے پاکستانی وفد کے اس واضح مؤقف کو دونوں برادر ممالک کے گہرے اور تاریخی تعلقات کی علامت قرار دیا اور مشکل وقت میں پاکستانی قیادت اور عوام کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

ملاقات کے اختتام پر، وفد نے کراچی کے سینکڑوں مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے دستخطوں سے مرتب کردہ ایک تاریخی پٹیشن قونصل جنرل کے حوالے کیا، جس میں رہبر انقلاب اسلامی سے مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا تھا۔ وفد نے درخواست کی کہ یہ پیغام رہبر معظم تک پہنچایا جائے۔ وفد میں شامل نمایاں شخصیات میں حجت الاسلام سید ناظر عباس تقوی، حجت الاسلام عقیل موسی، حجت الاسلام حیدر عباس عابدی، حجت الاسلام اصغر حسین شہیدی، اسد اللہ بھٹو، مولانا عقیل انجم، مولانا قاضی احمد نورانی، علامہ صادق جعفری، سید محمد نقی شامل تھے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial  

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رہبر انقلاب حجت الاسلام کی حمایت

پڑھیں:

بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک

اسلام ٹائمز: بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ تحریر: علی احمدی
 
خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع عرب ریاستوں خاص طور پر بحرین اور متحدہ عرب امارات میں اہل تشیع شہریوں کے ساتھ عرب حکمرانوں کا امتیازی سلوک اپنے عروج پر جا پہنچا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپریل کے وسط میں اچانک ہی 15 ہزار اہل تشیع پاکستانی مہاجرین کو ملک بدر کر دیا جو وہاں مختلف شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو گذشتہ چند دہائیوں سے وہاں مقیم تھے اور محنت مزدوری میں مصروف تھے۔ انہیں بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا اور ان کے بینک اکاونٹس بند کر دینے کے بعد خالی ہاتھ وطن واپس بھیج دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سرگرم اراکین نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر امتیازی سلوک کا واضح مصداق قرار دیا ہے اور اسے خطے میں جاری جنگ اور پاکستان کی جانب سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے فعال کوششوں اور کردار سے مربوط جانا ہے۔
 
دوسری طرف بحرین میں بھی اگرچہ مقامی آبادی کی اکثریت اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن حکمفرما آل خلیفہ خاندان شیعہ شہریوں سے بدترین امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے سرکاری سطح پر اہل تشیع کو تمام اہم اور اعلی سطحی حکومتی مناصب سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ شیعہ شہری کسی بھی اہم حکومتی، سیکورٹی یا اقتصادی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے اور یوں ان سے دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک جاری ہے۔ شیعہ شہریوں کو مذہبی رسومات جیسے عزاداری وغیرہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے، امام بارگاہیں اور شیعہ مساجد بند کر دی گئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں شیعہ بحرینی شہریوں سے ایران کی حمایت جیسے بے بنیاد الزام اور بہانے کے ذریعے شہریت واپس لے لی گئی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
 
ظالم و جابر حکومت
حالیہ جنگ میں امریکی صیہونی محاذ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بحرین پر حکمفرما آل خلیفہ رژیم نے صیہونی مہرہ ہونے اور غاصب صیہونی رژیم سے وفاداری کا پورا ثبوت دیتے ہوئے مئی کے آخر سے شیعہ شہریوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آل خلیفہ رژیم کے ہرکارے رات کے وقت شیعہ علماء کے گھرون پر وحشیانہ انداز میں کریک ڈاون کر رہے ہیں اور اب تک دسیوں شیعہ علماء کو گرفتار کر لیا ہے جن میں دو معروف عالم دین شیخ محمد سنقور اور شیخ علی الصدیقی بھی شامل ہیں۔ بحرینی حکام نے ان افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے رابطے میں تھے۔ اسی طرح آل خلیفہ رژیم نے دسیوں شیعہ بحرینی شہریوں کی شہریت بھی ختم کر دی ہے۔ اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر شدید قدغن لگا دیا گیا ہے اور 400 سے زائد شہریوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
 
ان ظالمانہ اور آمرانہ اقدامات کے جواب میں بحرین کے شیعہ علماء نے بیانیہ جاری کیا جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ شیخ عبداللہ الدقاق اور دیگر اسیر یا جلاوطن شیعہ علماء نے آل خلیفہ رژیم کے ظالمانہ اقدامات کو بحرین کے شیعہ اور اسلامی تشخص کے وجود کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ اسی طرح بحرین کے مختلف حصوں میں کفن پوش مظاہرے بھی منعقد ہوئے ہیں اور شیعہ برادری نے ان اقدامات کو آل خلیفہ کی فرقہ وارانہ اور امتیازی سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے ظالمانہ اقدامات ہر گز انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز خاموش نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ آل خلیفہ رژیم کے دل میں شیعیان اہلبیت علیہم السلام سے پایا جانا والا خوف اور وحشت ہے۔
 
اسلام سے غداری
بحرین اور متحدہ عرب امارات پر حکمفرما عرب شہزادوں نے 2020ء میں ابراہیم معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے اور یوں انہوں نے اسلام سے غداری کرتے ہوئے امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا تھا۔ ان کا یہ اقدام ایسے حالات میں انجام پایا تھا جب غاصب صیہونی رژیم نے مقبوضہ فلسطین، جنوبی لبنان اور گولان ہائٹس پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا تھا۔ یہ اقدام درحقیقت اپنے اقتصادی مفادات کو امت مسلمہ کے وقار اور خودمختاری پر ترجیح دینے کا واضح مصداق ہے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل سے اتحاد تشکیل دے کر امت مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اگرچہ صیہونی حکمرانوں نے غزہ میں لاکھوں بیگناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا لیکن بحرین اور امارات اب بھی اسرائیل کے اتحادی بنے بیٹھے ہیں۔
 
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت