بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر نوئیڈا میں ویلنٹائن ڈے کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شہر کی مصروف ترین شاہراہ کے کنارے کھڑی ایک کار میں سے نوجوان جوڑے کی لاشیں برآمد ہوئیں۔

ڈرائیونگ سیٹ پر لڑکا سیٹ بیلٹ لگائے تھا جب کہ ساتھ والی سیٹ پر لڑکی کی لاش تھی اور دونوں کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔

پولیس نے لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں دونوں کی موت گولیاں لگنے سے ہونے کی تصدیق ہوگئی۔

پولیس کے بقول ابتدائی شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ نوجوان نے مبینہ طور پر پہلے اپنی گرل فرینڈ کو گولی مار کر قتل کیا اور پھر خود کو گولی مار اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کرلیا۔

تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ مقامی افراد نے کار میں سے فائرنگ کی آوازیں سن کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔

پولیس نے گاڑی کو تحویل میں لے کر علاقے کو سیل کیا گیا اور فرانزک ٹیم نے شواہد اکٹھے کیے۔ کار سے پستول اور گولیوں کے خول بھی برآمد ہوئے۔

پولیس کے بقول لڑکی کی شناخت 26 سالہ ریکھا اور لڑکے کی 32 سالہ سمتھ کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کی گمشدگی کی رپورٹ اہلِ خانہ نے گزشتہ روز ہی درج کرائی تھی۔

علاقہ مکینوں نے پولیس کو بتایا کہ دونوں کئی برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق میں تھے اور دونوں کے خاندان بھی اس رشتے سے آگاہ تھے۔

پولیس نے بتایا کہ سمتھ نے واٹس ایپ پر ایک پیغام میں کہا کہ ریکھا نے پہلے شادی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہے۔

سمتھ نے واٹس ایپ پیغام میں مزید کہا کہ ریکھا کو کسی اور کی بھی نہیں ہونے دوں گا۔ اسے بھی ماردوں گا اور اپنی زندگی بھی ختم کردوں گا۔

تاہم سمتھ کے اہلِ خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ واقعہ خودکشی نہیں بلکہ قتل بھی ہو سکتا ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق لڑکی کے خاندان کی جانب سے ذات پات کے معاملے پر طعنے دیے جاتے تھے اور بیرونِ ملک نمبروں سے دھمکی آمیز کالز بھی موصول ہوئی تھیں۔

اہلِ خانہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گاڑی سالارپور گاؤں کے قریب محض چند سو میٹر کے فاصلے پر ملی جو مشکوک ہے۔ دونوں کو ذات پات کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اہلِ خانہ کے الزامات سمیت تمام نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری