ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: زمبابوے کے کپتان سکندر رضا کا بڑا بیان!
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
زمبابوے کے کپتان سکندر رضا کہتے ہیں کہ اگر اب ٹیم سے کوئی غلطی ہوئی تو اب تک حاصل ہونے والی فتوحات بے معنی ہوجائیں گی۔
زمبابوے کی ٹیم ایونٹ میں اپنے ابتدائی دو میچز کولمبو میں کھیلنے کے بعد آخری دو میچز پالیکیلے میں کھیلے گی۔ زمبابوے کا آئرلینڈ کے خلاف اس ہی پچ پر ہوگا جس پر پیر کے روز سری لنکا اور آسٹریلیا کا مقابلہ شیڈول ہے۔
پیر کے روز پری میچ بریفنگ میں سکندر رضا کا کہنا تھا کہ سری لنکا اور آسٹریلیا کے میچ کے بعد سلیکشن سے متعلق صورتحال مزید واضح ہوگی۔ وکٹ، گراؤنڈ کی اونچائی اور گیند کے گراؤنڈ میں حرکت سے متعلق چیلنجز کو سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ درست کمبینیشن بنانے کے لیے ٹیم کو بہت وقت لگا ہے۔ ہم اس سفر میں گزشتہ 18 ماہ سے ہیں، اس دوران مختلف کمبینیشن آزمائے اور جب ہمیں وہ کمبینیشن ملا جس کے متعلق ٹیم کا خیال تھا کہ وہ ان کنڈیشنز میں مدد دے گا تو اس کے ساتھ ہم پچھلے نو ماہ سے چل رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔