جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت میں قائم 11 جماعتوں کے اتحاد نے 12 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف پیر کے روز دارالحکومت میں احتجاجی ریلی اور جلسہ منعقد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں مذہبی جماعتوں کی انتخابات میں بڑی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش خلافت مجلس کے امیر مامون الحق نے کہا کہ انتخابی عمل کو ’منصوبہ بندی کے تحت ترتیب دیا گیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن ووٹنگ کا تاثر دینے کے لیے ڈراما رچایا گیا اور بعض مخصوص امیدواروں کو پارلیمنٹ تک رسائی سے روکنے کے لیے ریاستی اداروں کو استعمال کیا گیا۔

انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن جماعتوں کی شکایات کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کے حقِ رائے دہی کی بحالی کو یقینی نہ بنایا گیا تو عوامی ردِعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

مامون الحق نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ انتخابات کے بعد اتحاد کے کارکنوں کو ہراساں کیا گیا اور بعض مقامات پر گھروں پر حملوں کے واقعات پیش آئے تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیے: بنگلہ دیش کے وزیراعظم کی حلف برداری، احسن اقبال پاکستان کی نمائندگی کریں گے

جلسے کی صدارت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل اور سابق رکن پارلیمنٹ میاں غلام پرور نے کی۔

اتحادی جماعتوں کے دیگر رہنماؤں نے بھی انتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل کے الزامات عائد کرتے ہوئے شفاف احتساب کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے عدالتی حکم ضروری، الیکشن کمیشن بنگلہ دیش

اتحاد کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ یہ مظاہرہ ایک وسیع احتجاجی تحریک کا آغاز ہے جس میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں، جبر اور بعد از انتخاب تشدد کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش اپوریشن اتحاد بنگلہ دیش انتخابات بنگلہ دیش انتخابات میں دھاندلی جماعت اسلامی بنگلہ دیش.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش انتخابات بنگلہ دیش انتخابات میں دھاندلی جماعت اسلامی بنگلہ دیش جماعت اسلامی بنگلہ دیش انتخابات میں کے لیے

پڑھیں:

فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار

فوٹو: آئی ایس پی آر 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار  کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار