بنگلہ دیش میں مذہبی جماعتوں کی پارلیمانی انتخابات میں بڑی کامیابی کی وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں اسلامی جماعتوں نے 1991ء میں پارلیمانی جمہوریت کے بحال ہونے کے بعد اپنے اب تک کے مضبوط ترین انتخابی مظاہرہ کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، 13ویں قومی اسمبلی کے انتخابات میں کل 11 اسلامی جماعتوں نے حصہ لیا اور ملک بھر میں 607 امیدوار میدان میں اتارے۔ ان جماعتوں نے مجموعی طور پر 72 پارلیمانی نشستیں جیتیں جو 3 دہائیوں میں سب سے زیادہ شمار ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے وزیراعظم کی حلف برداری، احسن اقبال پاکستان کی نمائندگی کریں گے
ان میں بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی سب سے زیادہ اثر رکھنے والی جماعت کے طور پر سامنے آئی، جس نے 68 نشستیں جیتی۔ جماعت نے 224 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے تھے۔ اس کے انتخابی اتحادی بنگلہ دیش خلافت مجلس اور خلافت مجلس نے بالترتیب دو اور ایک نشست حاصل کی۔ پہلی بار، اسلامی اقدام بنگلہ دیش، جس کی قیادت چرمونی پیر کر رہے ہیں، نے پارلیمانی نشست حاصل کی۔
اس جماعت نے 258 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے، جو اسلامی جماعتوں میں سب سے زیادہ تھے۔ جبکہ جمعیت علماء اسلام بنگلہ دیش، جس نے بی این پی کے ساتھ اتحاد میں 5 نشستوں پر انتخاب لڑا، کوئی بھی نشست حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، اسلامی جماعتوں کی ووٹ شیئر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاریخی طور پر، 1991ء کے بعد اسلامی جماعتوں نے کبھی بھی 15 فیصد ووٹ کا ہدف عبور نہیں کیا، لیکن حالیہ انتخابات میں ان کا مجموعی ووٹ شیئر 38 فیصد سے زائد رہا۔ بی این پی، جس نے زبردست فتح حاصل کی، 49.
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی
تاریخی موازنہ کیا جائے تو 1991ء کے بعد اسلامی جماعتیں کبھی بھی اس تعداد میں نشستیں حاصل نہیں کر پائیں۔ ان کی پچھلی بہترین کارکردگی 1991ء اور 2001ء میں 19 نشستیں جیتنے پر محدود رہی۔ 1996ء اور 2008ء میں اسلامی نمائندگی سب سے کم سطح پر پہنچ گئی۔ عوامی لیگ کی حکومت کے دوران صوفی مائل گروپس جیسے طریقت فیڈریشن نے محدود کامیابی حاصل کی، 2014ء میں دو اور 2018ء میں ایک نشست جیتی۔ 2024ء کے متنازعہ انتخابات میں کوئی اسلامی جماعت نشست حاصل نہیں کر سکی۔
سیاستدان اور تجزیہ کار زاہد الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ اس نتیجے کو مستقل نظریاتی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ‘بہت سی اسلامی جماعتوں نے اس بار اپنی روایتی مذہبی پالیسیوں پر زور نہیں دیا یا انہیں کم اہمیت دی، لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ ووٹروں نے صرف اسلامی سیاست کی بنیاد پر انہیں ووٹ دیے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘عوامی لیگ کی غیر موجودگی، جس کی سرگرمیاں انتخابات سے پہلے معطل کی گئی تھیں، بھی اس نتیجے پر اثر انداز ہوئی’۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیراعظم طارق رحمان منگل کو حلف اٹھائیں گے، مختصر کابینہ کا اعلان جلد
اس نتیجے نے بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست میں ممکنہ وسیع پیمانے پر تبدیلی کے امکانات پر بحث چھڑوا دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلامی جماعتیں اتحاد کی حکمت عملی اور ووٹر رویے میں تبدیلی سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ بی این پی کی حکومت بننے کے بعد توجہ اب اس بات پر مرکوز ہے کہ اسلامی جماعتیں پارلیمان میں کس موقف اختیار کریں گی اور کیا ان کی بڑھتی ہوئی نمائندگی طویل المدتی سیاسی اثر و رسوخ میں بدل پائے گی یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Bangladesh jamat islami Religious Politics بنگلہ دیش جماعت اسلامی ڈھاکا مذہبی سیاست
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جماعت اسلامی ڈھاکا مذہبی سیاست اسلامی جماعتوں نے اسلامی جماعت انتخابات میں بنگلہ دیش حاصل کی کے بعد
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔