بنوں میں تھانہ میریان کے باہر بم دھماکا، 2 افراد جاں بحق، 20 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پولیس کے مطابق دہشتگردوں نے بارود سے بھرا زرنج رکشہ تھانے کے مین گیٹ سے ٹکرایا، جبکہ ایک موٹر سائیکل میں بھی آئی ای ڈی نصب کی گئی تھی جو قریبی دکانوں کے سامنے کھڑی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ بنوں میں تھانہ میریان کے مرکزی گیٹ کے باہر بارود سے بھری گاڑی اور موٹر سائیکل میں نصب آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں بچے سمیت 2 افراد جاں بحق جبکہ کم از کم 20 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق دہشتگردوں نے بارود سے بھرا زرنج رکشہ تھانے کے مین گیٹ سے ٹکرایا، جبکہ ایک موٹر سائیکل میں بھی آئی ای ڈی نصب کی گئی تھی جو قریبی دکانوں کے سامنے کھڑی تھی، دھماکے کے وقت تھانے کے باہر دکانیں موجود تھیں جس کے باعث شہری نشانہ بنے۔ ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کے مطابق آئی ای ڈی دھماکے میں پولیس اہلکار محفوظ رہے تاہم بچے سمیت دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔ دوسری جانب، ایف سی کی منزئی پوسٹ مرتضیٰ میں کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کو ریکور کرنے کے لیے فرنٹیئر کور کوڑ قلعہ ٹیم پر فائرنگ اور دھماکے میں دو جوان شہید جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں لانس نائیک باسط اور سپاہی عصمت اللہ شامل ہیں۔ زخمیوں میں نائب صوبیدار زاہد، نائیک مدثر، سپاہی اصغر، حوالدار شاہ پور خان اور لانس نائیک جان شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئی ای ڈی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک