دہرادون شہر میں کانگریس کمیٹی کا مودی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
کانگریس لیڈران نے ریاستی حکومت پر لاء اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہنے، مہنگائی پر قابو نہ کر پانے اور بدعنوانی کے معاملوں میں سست روی کا الزام عائد کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں لاء اینڈ آرڈر کی بگڑتی ہوئی صورتحال، مہنگائی اور بدعنوانی کے معاملے کو لے کر کانگریس ریاستی حکومت کو گھیر رہی ہے۔ پیر کو دہرادون میں کانگریس نے حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے راج بھون کی طرف مارچ کیا۔ اس دوران پوری ریاست سے سینیئر لیڈران اور ہزاروں کارکنان نے دارالحکومت دہرادون میں جمع ہو کر مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھائی۔ پارٹی نے ریاست میں جرائم، بے روزگاری، مہنگائی، لاء اینڈ آرڈر، بدعنوانی، جنگلی جانوروں کے حملے، ہجرت، آفات سے متاثرہ لوگوں کو امداد اور معاوضہ، ناقص صحت کی خدمات اور کسانوں کو فصل کا نقصان ہونے پر معاوضہ نہ ملنے سمیت دیگر مسائل پر لوک بھون کا گھیراؤ کیا۔
کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر گنیش گودیال کی قیادت میں پریڈ میدان میں ہزاروں کارکنان جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ کانگریس لیڈران نے 15 دنوں میں 5 قتل کے معاملے پر ریاستی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ لیڈران نے وارننگ دی ہے کہ اگر ریاست میں لاء اینڈ آرڈر میں بہتری نہیں آئی اور جرائم پر لگام نہیں لگا تو کانگریس آج سے بھی زیادہ شدید احتجاج کرے گی۔
دوسری جانب احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سیکورٹی کے پختہ انتظام کر رکھے تھے، لوک بھون کی جانب جانے والے روٹس پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ 4 سطحوں میں بیریکیڈنگ کی گئی تھی تاکہ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔ لوک بھون کی طرف مارچ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ اس دوران کانگریس کارکنان 2 بیریکیڈنگ پار کرنے میں کامیاب رہے، جس کی وجہ سے کچھ دیر تک حالات کشیدہ رہے۔ ساتھ ہی پولیس کو بھیڑ کو کنٹرول کرنے میں سخت مشقت کرنی پڑی۔
کانگریس لیڈران نے ریاستی حکومت پر لاء اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہنے، مہنگائی پر قابو نہ کر پانے اور بدعنوانی کے معاملوں میں سست روی کا الزام عائد کیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے ریاستی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ اگر مودی حکومت نے جلد ٹھوس قدم نہیں اٹھایا تو احتجاج میں مزید تیزی لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت کے خلاف لاء اینڈ آرڈر ریاستی حکومت لیڈران نے نے ریاست
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
سٹی 42: کفایت شعاری اقدامات میں نائب وزیر اعظم نے مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی
کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔
تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔