پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری یونیسکو چیئر برائے امن، تعلیم و مکالمہ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
سربراہ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا اعزاز اور منہاج القرآن کی عالمگیر علم و امن کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کا اعتراف ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، خرم نواز گنڈاپور اور وائس چانسلر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد و دیگر نے بھی مُبارکباد پیش کی۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کو یونیسکو چیئر برائے امن، تعلیم اور بین الاقوامی مکالمہ مقرر ہونے پر مُبارکباد دی ہے۔ انہوں نے اپنے مُبارکبادی پیغام میں کہا کہ یہ پاکستان کا اعزاز اور منہاج القرآن کی عالمگیر علم و امن کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کا اعتراف ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ کامیابی محض ایک شخصی اعزاز نہیں، بلکہ منہاج القرآن انٹرنیشنل اور منہاج یونیورسٹی لاہور کی عالمگیر علم و امن کے لیے تسلسل کے ساتھ انجام دی جانے والی کاوشوں کا ایک بین الاقوامی اعتراف ہے۔ منہاج القرآن 5 دہائیوں سے بین المذاہب رواداری کے فروغ، مکالمہ اور ہم آہنگی کے لیے پر خلوص کوششیں انجام دیتا چلا آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ منہاج القرآن اور منہاج یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے اب ان قومی، ملی و بین الاقوامی خدمات میں اور بھی اضافہ ہوگا۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے مُبارکبادی پیغام میں کہا کہ یہ چیئر پاکستان کے لیے ایک تاریخی اعزاز ہے اور منہاج یونیورسٹی لاہور کی امن تعلیم، انسدادِ دہشت گردی تحقیق اور بین المذاہب روداری کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ انجام دی جانے والی خدمات ایک بین الاقوامی اعتراف ہے۔ ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ بلاشبہ یہ ایک تاریخی کامیابی ہے، یہ نا صرف منہاج یونیورسٹی لاہور بلکہ منہاج القرآن انٹرنیشنل اور پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ اعزاز منہاج القرآن انٹرنیشنل اور منہاج یونیورسٹی لاہور کے پلیٹ فارم سے اس کے بانی و سرپرست اعلیٰ کی بصیرت افروز قیادت میں دہائیوں سے جاری مخلصانہ کاوشوں کا مظہر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: منہاج القرا ن انٹرنیشنل منہاج یونیورسٹی لاہور اور منہاج یونیورسٹی انجام دی جانے والی محی الدین قادری پروفیسر ڈاکٹر بین الاقوامی اعتراف ہے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔