منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر نے کہا کہ بصیرت سے محروم کلام حکمت سے خالی ہوتا ہے، زبان سے ادا ہونے والا ہر حرف امانت ہے، اس کی حفاظت کی پہلی ذمہ داری متکلم کی ہے، علماء، واعظین، اساتذہ، مبلغین، تجزیہ نگار، اینکرپرسن ہر اُس شخص کو صوتی حسن میں نکھار اور پختگی لانے کے لئے مطالعہ اور تربیت پر خاص توجہ دینی چاہیے، قرآن مجید نے مومن کی ایک نشانی پختہ قول والی بتائی ہے کہ مومن کا قول سدید اور ابہام سے پاک ہوتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیراہتمام قائم حسان بن ثابت نعت انسٹیٹیوٹ میں ”الناطق“ کے منفرد موضوع پر منعقدہ تربیتی ورکشاپس سے خطاب کرتے ہوئے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ بصیرت سے محروم کلام حکمت سے خالی ہوتا ہے، زبان سے ادا ہونے والا ہر حرف امانت ہے، اس کی حفاظت کی پہلی ذمہ داری متکلم کی ہے، علماء، واعظین، اساتذہ، مبلغین، تجزیہ نگار، اینکرپرسن ہر اُس شخص کو صوتی حسن میں نکھار اور پختگی لانے کے لئے مطالعہ اور تربیت پر خاص توجہ دینی چاہیے، قرآن مجید نے مومن کی ایک نشانی پختہ قول والی بتائی ہے کہ مومن کا قول سدید اور ابہام سے پاک ہوتا ہے، الفاظ بھی اہم ہوتے ہیں مگر اُن الفاظ کا برمحل استعمال اور انداز تکلم کا بھی اپنا ایک رنگ ہوتا ہے۔

”الناطق“ تربیتی سیشن سے وائس چانسلر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد، سید ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، ڈائریکٹر حسان بن ثابت نعت ریسرچ سنٹر ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی، معروف اینکر صفدر علی محسن، سید شکیل انجم گیلانی، حافظ محمد ارشد نقشبندی، مظہر محمود علوی، ناصر محمود اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے تربیتی سیشن میں شرکت و گفتگو کی۔ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ ہر انسان کے ساتھ مقرر کردہ فرشتے بھی الفاظ ہی نوٹ کر رہے ہوتے ہیں، انسان کا ادا کیا ہوا ہر کلمہ روز قیامت اُس کے نامہ اعمال کے ذریعے سامنے لایا جائے گا۔ قرآن مجید نے بھی اسے موضوع بحث بنایا ہے اور اس کے لئے کلام، قول، بیان، بلاغ، لسان، نطق اور نبا جیسے مختلف الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زبان سے پہلے سماعت عطا فرمائی ہے، لہٰذا جس کلام میں سماعت اور بصیرت نہ ہو وہ حکمت سے خالی ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک