امن و امان بحال رکھنے کیلئے قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہو گا، ڈاکٹر راغب نعیمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی اشتعال انگیزی کی حوصلہ شکنی کی جائے، قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ہمیں اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ اسلام ٹائمز ۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ امن و امان بحال رکھنے کیلئے قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا، ہر قسم کی اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کی جائے، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں میڈیا کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ متوازن اور حقیقت پر مبنی معلومات فراہم کرے، میڈیا ادارے اور صارفین دونوں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، معلومات کی تصدیق کریں اور اشتعال انگیزی سے بچیں، باہمی مکالمہ، برداشت اور یکجہتی ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ملک کو درپیش چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے، قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ہمیں اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں وازت مذہبی امور کے زیراہتمام بین المذاہب ہم آہنگی کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف، چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی، علامہ محمد حسین اکبر، مفتی عبدالخبیر آزاد سمیت دیگر مذاہب کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سوشل میڈیا نے معلومات کی ترسیل کو بہت تیز کر دیا ہے، اگرچہ اس کے ذریعے مثبت پیغامات تیزی سے پھیلائے جا سکتے ہیں، لیکن جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز تقاریر کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ ہم سیاسی، مذہبی اور سماجی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک قوم کے طور پر متحد ہوں اور باہمی احترام، برداشت اور رواداری کو فروغ دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر