غیر معمولی تاخیر پر حافظ طاہر اشرفی بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے چلے گئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
حافظ طاہر اشرفی — فائل فوٹو
چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس میں غیر معمولی تاخیر پر برہم ہو گئے۔
انہوں نے لاہور میں ہونے والی تقریب میں غیر معمولی تاخیر پر تقریب کا بائیکاٹ کر دیا۔
حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے باوجود کانفرنس صرف وزراء کے انتظار میں شروع نہیں کروائی جا رہی، علماء اور اقلیتی رہنما صبح سے انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر صورتِ حال یہی رہی تو میں کانفرنس چھوڑ کر چلا جاؤں گا، میں آئندہ آپ کی کانفرنس میں نہیں آؤں گا۔
ملک میں موجود سہولت کاروں کا جب خاتمہ ہوگا تب دیکھیں گے کہ دہشتگرد کیسے آتے ہیں؟، چیئرمین پاکستان علما کونسل
منتظمین اور علمائے کرام کی جانب سے چیئرمین پاکستان علماء کونسل کو روکنے کی کوشش کی تاہم حافظ طاہر اشرفی ناراض ہو کر احتجاجاً بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے چلے گئے۔
بعد میں علمائے کرام حافظ طاہر محمود اشرفی کو منا کر واپس لے آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حافظ طاہر اشرفی
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔