لاہور+ کراچی (خصوصی نامہ نگار+نامہ نگاران+ آئی این پی+کامرس رپورٹر) کراچی کے عوام کے حقوق کے لئے جماعت اسلامی کے پُرامن دھرنے پر پولیس کا وحشیانہ تشدد، آنسوگیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج، معتدد کارکنان کو گرفتار کرنے کے خلاف لاہور سمیت فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیر آباد، سیالکوٹ، ناروال، شیخوپورہ، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن اور دیگر ضلعی ہیڈکوارٹرز پر بھرپور احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں جماعت اسلامی کے ذمہ داران، کارکنان اور عوام الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے سندھ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کراچی کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان مظاہروں میں جماعت اسلامی کی مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی قیادت نے شرکت کی اور خطابات کیے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ میں پیپلز پارٹی کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ سابق بنگلادیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے انجام سے سبق سیکھے، پورے ملک کے عوام اہل کراچی کی جد و جہد میں ان کی پشت پر ہیں، قابض مئیر کو قابض مئیر اور قابض سسٹم کو قابض سسٹم ہی کہا جائے گا۔ پولیس کے وحشیانہ تشدد، شیلنگ و لاٹھی چارج کے بعد رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت ہمارے 50 سے زائد کارکنان گرفتار اور لاپتہ ہیں۔ پولیس والوں سے ہماری لڑائی نہیں ہے ان کے افسران سے کہتا ہوں کہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری نہ کریں، آج پیپلز پارٹی نے ہمارے خلاف پولیس کو استعمال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم شہر کے عوام کی بات کر رہے ہیں، دہشتگردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، یہ چاہتے ہیں کہ نوجوان تشدد کا راستہ اختیار کریں، ہم پرامن رہیں گے لیکن اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر ملک گیر احتجاجی سلسلے کے تحت لاہور کے جنوبی علاقوں میں بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری، امیر جنوبی لاہور مرزا عبدالرشید اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لاہور اظہر بلال نے کی، جبکہ کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کراچی میں مبینہ ریاستی جبر کے خلاف نعرے درج تھے۔ لیاقت بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی کے شہری اپنے بنیادی حقوق اور بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے، مگر ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ امیرجماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کراچی کے حقوق اور بااختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے سندھ اسمبلی کے سامنے دیے گئے پرامن دھرنے پر پولیس تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہتے اور پرامن کارکنان پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور درجنوں افراد کی گرفتاری کھلی آمریت اور جمہوری اقدار کی توہین ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ شہر کو بااختیار بلدیاتی نظام دیا جائے، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور شہری مسائل کا حل نکالا جائے۔ مگر افسوس کہ ان جائز مطالبات کو سننے کے بجائے صوبائی حکومت نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی شیلنگ اور پولیس کی وحشیانہ کارروائیوں نے ثابت کر دیا کہ سندھ حکومت اختلاف رائے برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ جماعت اسلامی چنیوٹ کے زیراہتمام جھنگ روڈ جامعہ مسجد اقصیٰ دفتر جماعت اسلامی سے ایک احتجاجی ریلی امیر جماعت اسلامی حافظ محمد طاہر قدیر حسن کی قیاددت میں نکالی گئی۔ ریلی میں کارکنان و ذمہ داران اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کارکنان نے پارٹی پرچم اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کراچی کے پرامن احتجاج پر صوبائی حکومت سندھ کے ایما پر پولیس کا بہیمانہ تشدد قابل مذمت ہے۔ دریں اثنا امیر جماعت اسلامی ضلع سیالکوٹ چوہدری امتیاز احمد بریار اور دیگر مقررین نے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چوک علامہ اقبال میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرہ میں جماعت کے کارکنوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ہر طبقہ فکر سے لوگوں نے شرکت کی۔مظاہرہ سے حارث میر بگو، سید محمود الحق، شیخ سعید ظفر، ملک منیر حسین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی کی آئینی پر امن جد وجہد پاکستان کو لوٹ کھسوٹ اور کرپشن سے پاک کرنے کیلئے جاری رہے گی۔ وزیرداخلہ سندھ ضیاء لنجار نے کہا ہے جماعت اسلامی کے ساتھ گذشتہ شام مذاکرات ہونے تھے، کسی کو تماشہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جماعت اسلامی کیخلاف کارروائی کرنی پڑی، جماعت اسلامی کو بتا دیا تھا کہ سندھ اسمبلی نہیں آنے دیں گے۔ سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے احتجاج اور دھرنے سے متعلق اپنے ایک بیان یمں وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ریلی پر پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی جبکہ کارکنوں کی جانب سے بھی پتھرا ئو کیا گیا، پولیس نے10  سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا ہے۔ جماعت اسلامی کے متعدد کارکنان سندھ اسمبلی کے دروازے پر پہنچے، کارکنان اور پولیس کے درمیان دھکم پیل ہوئی ہے، پولیس نے سائو نڈ سسٹم والا ٹرک بھی تحویل میں لے لیا ۔ کارکنان کے پتھرا ئوسے تین اہلکار زخمی ہوئے ہیں، پولیس نے سندھ اسمبلی کے قریب رکاوٹیں کھڑی کی تھیں، جماعت اسلامی کے کارکنان رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے دروازے پر پہنچے۔ دریں اثنا جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق حکومت کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ آرام باغ میں درج کر لیا گیا۔مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جس میں30  افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ روز جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے تھے، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی تھی جس پر رینجرز اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا۔ پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس کے باعث ایک کارکن زخمی ہوگیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی کی جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی کے کارکنان اور لاٹھی چارج نے شرکت کی کرتے ہوئے پولیس نے پر پولیس کراچی کے کیا گیا کے عوام نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں