ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں بھونچال، پاکستان کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
عالمی ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں حالیہ شدید مندی کے بعد پاکستان میں بھی اس شعبے کے مستقبل پر بحث جاری ہے۔ بڑی ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور مالیاتی حلقے اسے ایک اہم معاشی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اتار چڑھاؤحالیہ اعداد و شمار کے مطابق، فروری 2026 میں بٹ کوائن کی قیمت اکتوبر 2025 کے ریکارڈ ہائی تقریباً 126 ہزار ڈالر سے گر کر ابتدائی طور پر 60 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ گئی تھی (تقریباً 50 فیصد سے زیادہ کمی)، لیکن اب یہ دوبارہ بحال ہو کر تقریباً 68 ہزار سے 70 ہزار ڈالر کے درمیان ٹریڈ ہو رہی ہے۔
پوری کرپٹو مارکیٹ کی ویلیو تقریباً 2.
واضح رہے کہ یہ اثرات دنیا بھر کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں لاکھوں نوجوان اور سرمایہ کار ڈیجیٹل کرنسی کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔
عالمی ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں شدید مندی کے اسباباس گراوٹ کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بٹ کوائن کا 4 سالہ چکر ہے، جس میں 2024 میں ہونے والے ہاؤنگ کے بعد تاریخی طور پر قیمتوں میں کمی کی ایک مدت آتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ دور اسی بیئر فیز کا حصہ ہے، جہاں مارکیٹ میں شدید دباؤ اور قیمتوں کی اصلاح دیکھی جا رہی ہے۔
دوسری اہم وجہ عالمی معاشی عوامل ہیں، جیسے شرح سود کی توقعات، امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیاں، اور مہنگائی کے اعداد و شمار سے پیدا ہونے والا مارکیٹ میں بحالی کا رجحان۔
تیسری وجہ لیوریجڈ پوزیشنز کا خاتمہ اور بڑے سرمایہ کاروں کی اچانک بڑی مقدار میں فروخت ہے، جس سے مارکیٹ میں شدید دباؤ پڑا۔
چوتھی وجہ جغرافیائی سیاسی عدم استحکام اور امریکی ڈالر کی مضبوطی ہے، جو خطرے والے اثاثوں جیسے ڈیجیٹل کرنسیوں پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
پاکستان میں ریگولیشن کی پیش رفتاسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پہلے ہی عوام کو غیر ریگولیٹڈ ڈیجیٹل کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے خطرات (جیسے دھوکہ دہی، منی لانڈرنگ، اور شدید اتار چڑھاؤ) سے خبردار کیا ہے۔ تاہم، 2025 میں اہم پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
پاکستان ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 کے تحت پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) قائم کی گئی ہے۔
پی وی اے آر اے نے بائنانس اور ایچ ٹی ایکس جیسے بڑے گلوبل ایکسچینجز کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس (این او سیز) جاری کیے ہیں، جو مرحلہ وار ریگولیشن کا پہلا قدم ہے۔
پی وی اے آر اے کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کانسینسس ہانگ کانگ 2026 میں پاکستان کا وژن شیئر کیا کہ ڈیجیٹل ایسٹس کو قومی مالیاتی انفراسٹرکچر کے طور پر ریگولیٹ کیا جائے گا، جس میں کنزیومر پروٹیکشن، اے ایم ایل/سی ایف ٹی، اور لائسنسنگ پر فوکس ہے۔
ایس بی پی، پی وی اے آر اے کے ساتھ مل کر سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (ڈیجیٹل روپیہ) کے پائلٹ پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان مکمل پابندی کی بجائے مرحلہ وار ریگولیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کی رائے: احتیاط یا تیزی؟معاشی ماہر راجہ کامران کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ڈیجیٹل کرنسی کے معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پہلے ایک محدود اور کنٹرول شدہ نظام متعارف کرایا جائے، جہاں رجسٹرڈ اداروں کے ذریعے خرید و فروخت ہو اور ہر سرمایہ کار کی شناخت (کے وائی سی) لازمی ہو، تاکہ مالیاتی بدعنوانی اور غیر قانونی رقوم کی منتقلی کو روکا جا سکے۔
کرپٹو ایکسپرٹ طاہر نقاش اس کے برعکس سمجھتے ہیں کہ زیادہ تاخیر بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے اور اگر پاکستان نے بروقت ضابطہ بندی نہ کی تو سرمایہ کاری، نئی ٹیکنالوجی، اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع دوسرے ممالک منتقل ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اصل ضرورت پابندی نہیں بلکہ مضبوط نگرانی، واضح قوانین، اور پی وی اے آر اے جیسے اداروں کا فعال کردار ہے۔
کرپٹو سرمایہ کار عرفان قادر کے مطابق موجودہ عالمی مندی نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ شعبہ بہت زیادہ غیر مستحکم ہے۔ اس لیے عام شہریوں کو فوری منافع کے لالچ میں بڑی سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو پہلے عوامی آگاہی مہم، واضح ٹیکس پالیسی (جیسے کیپیٹل گین ٹیکس)، شکایات کے ازالے کا نظام، اور پی وی اے آر اے کے تحت لائسنس یافتہ پلیٹ فارمز کو فروغ دینا چاہیے۔ اس کے بعد ہی مکمل اجازت پر غور کرنا مناسب ہوگا۔
متوازن حکمت عملی ہی محفوظ راستہواضح رہے کہ ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے بہترین راستہ نہ مکمل پابندی ہے اور نہ فوری مکمل آزادی، بلکہ مرحلہ وار، محتاط اور مضبوط قانونی نظام کے ساتھ ڈیجیٹل کرنسی کو منظم انداز میں متعارف کرانا ہی زیادہ محفوظ حکمت عملی ہے۔ پی وی اے آر اے کی حالیہ سرگرمیاں (جیسے این او سیز اور ریگولیٹری فریم ورک) اسی سمت میں اہم قدم ہیں، جو سرمایہ کاروں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی مواقع بھی پیدا کر سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی وی اے آر اے ڈیجیٹل کرنسی مارکیٹ میں کے مطابق کے ساتھ رہی ہے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔