جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی اجلاس میں کارکنوں پر تشدد کا معاملہ اٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
سندھ اسمبلی اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کارکنوں پر تشدد کا معاملہ اٹھا دیا۔
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمد فاروق نے کہا کہ کراچی کے عوام پانی اور بجلی کا حق مانگنے آئے تھے، پانی مانگنے پر ہم پر ریاستی جبر کیا گیا۔
محمد فاروق نے کہا کہ مظاہرین ان کی دعوت پر اسمبلی آرہے تھے، گرفتار لوگوں کو رہا کریں مجھے گرفتار کریں۔
پولیس نے جماعت اسلامی کا ساؤنڈ سسٹم لگا ٹرک قبضے میں لے لیا، جبکہ جماعت اسلامی کے 10 کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
رکن صوبائی اسمبلی محمد فاروق کو جواب دیتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگر سب کو روڈ بند کرنے کی اجازت دے دی تو عوام کہاں جائیں گے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے زیادتی کی گئی، شہرمیں 10جگہ دھرنے دیے بتائیں اس سے کیا فائدہ ہوا، انھوں نے کراچی کی خدمت نہیں کی لیکن تکلیف دینے کے لیے تیار ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی میں 14 فروری کو جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے تھے، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی تھی، پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی۔
پولیس نے جماعت اسلامی کا ساؤنڈ سسٹم لگا ٹرک قبضے میں لے لیا تھا جبکہ 10 کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
بعدازاں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کارکنان کو منتشر ہونے کی ہدایت کردی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے محمد فاروق میں لے لیا نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک