کراچی: اسپتالوں میں مسکیولواسکیلیٹل کینسر کے مریضوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے اسپتالوں میں مسکیولواسکیلیٹل ٹیومرز کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر ماہرین صحت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ جناح اسپتال کے ماہر امراض ہڈی و جوڑ۔
ڈاکٹر سجاد بگھیو نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ یہ ٹیومرز ہڈی، پٹھوں، چربی اور دیگر نرم ٹشوز میں پیدا ہونے والے کینسرز پر مشتمل ہوتے ہیں، جنہیں عام طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے، بچوں میں زیادہ تر ہڈیوں کے ٹیومرز دیکھے جاتے ہیں، جن میں اکثر شدید درد محسوس ہوتا ہے لیکن بیرونی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
دوسری جانب بالغ افراد میں گوشت اور پٹھوں کے ٹیومرز عام ہیں، جو ابتدائی مراحل میں درد کا باعث نہیں بنتے مگر وقت کے ساتھ سوجن نمودار ہونے لگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ہاتھ، پیر یا ٹانگ میں ایسی سوجن ہو جو مسلسل بڑھتی رہے یا ایک ماہ سے زائد برقرار رہے، تو یہ خطرے کی واضح علامت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیوں میں رات کے وقت بڑھنے والا درد یا عام درد کی دواؤں سے ٹھیک نہ ہونے والا درد بھی تشویشناک ہو سکتا ہے، اسی طرح معمولی چوٹ سے ہڈی ٹوٹ جانا بھی اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ پہلے سے ہڈی میں کوئی بیماری یا کینسر موجود ہے۔
ڈاکٹر بگھیو نے زور دیا کہ ایسی علامات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور فوری طور پر ماہر آرتھوپیڈک یا آنکولوجی سرجن سے رابطہ کیا جائے، نہ کہ دیسی علاج پر انحصار کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مسکیولواسکیلیٹل ٹیومرز کے ماہرین کی کمی ہے، مگر ہر کیس کی مکمل تشخیص ضروری ہے۔ بائیوپسی سے قبل ایکس رے، ایم آر آئی اور دیگر ضروری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ بیماری کی نوعیت اور شدت کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ شدید کیسز میں کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کے بعد سرجری کی جاتی ہے، تاکہ مریض کی صحت پر مثبت اثر پڑے۔
ڈاکٹر بگھیو نے عوام سے اپیل کی کہ ہڈی یا پٹھوں میں مسلسل درد، سوجن یا غیر معمولی علامات کو نظرانداز نہ کریں، کیونکہ ابتدائی تشخیص اور بروقت علاج سے بیماری کے خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بچوں میں ہڈیوں کے ٹیومرز اور بالغوں میں گوشت و پٹھوں کے ٹیومرز سب سے زیادہ دیکھنے کو مل رہے ہیں، اس لیے ہر سطح پر آگاہی اور فوری طبی مداخلت انتہائی اہم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ٹیومرز
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔