حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم توسیع پسندانہ عزائم کی حامل ہے جس کی بنا پر وہ فلسطین سمیت پورا خطہ ہڑپ کر لینے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے توسیع پسندانہ عزائم سے پردہ ہٹاتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل پورے خطے کو اپنے تسلط میں لینے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ آج بروز پیر 16 فروری 2016ء کی سہ پہر سید عباس موسوی، شیخ راغب حرب اور عماد مغنیہ سمیت اسلامی مزاحمت کے دیگر شہید کمانڈرز کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ تقریب بیروت کے جنوبی محلے ضاحیہ میں واقع سید الشہداء کمپلکس میں منعقد ہوئی تھی جبکہ نبی شیث امام بارگاہ، جیشیت امام بارگاہ اور طیردبا میں حاج عماد مغنیہ کمپلکس میں بھی لائیو دکھائی جا رہی تھی۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے خطاب کرتے ہوئے کہا: "آج ہم تین شہید کمانڈرز، شیخ راغب حرب، سید عباس موسوی اور عماد مغنیہ کی یاد میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ مومنین کا راستہ وہی ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راستہ تھا اور یہ راستہ اپنی جان اور مال سے جہاد کرنے پر مشتمل ہے۔ مومنین وہی سچے ہیں جنہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اور اس راستے پر گامزن ہوئے اور انشاءاللہ ہمارا انجام بھی آخرکار اسی راستے پر ہو گا۔ شہید عماد مغنیہ 2000ء اور 2006ء میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بانی تھے۔ وہ ایک ذہین اور سخاوت مند کمانڈر تھے۔"
 
شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا: "یہ تینوں شہداء کچھ ایسی عظیم خصوصیات کے مالک تھے جن کی بدولت وہ دوسروں کے لیے رول ماڈل قرار پائے۔ اس کے علاوہ ان میں بہت سی پسندیدہ خصوصیات بھی پائی جاتی تھیں جیسے یہ کہ ان کی زندگی بامقصد تھی، وہ اسلام میں ڈوب چکے تھے اور اسلامی شریعت کے اصولوں کے پابند تھے۔ یہ تینوں شہداء اپنی تقریروں میں امام خمینی رح کا یہ فرمان بہت بیان کیا کرتے تھے کہ "ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ عاشورا کی برکت سے ہے"۔ انہوں نے امام خمینی رح کی پیروی کی اور ہم بھی انشاءاللہ ان کا راستہ جاری رکھیں گے۔ کچھ رہنما شہید ہو چکے ہیں اور نئے رہنما سامنے آئے، پھر وہ بھی شہید ہوئے اور مزید نئے رہنما سامنے آ گئے، لہذا ہمیشہ شہید ہونے والے رہنماوں کی جگہ کوئی آ جاتا ہے۔" انہوں نے کہا: "ناجائز قبضہ جہاں بھی ہو اسے ختم کرنے کے لیے مزاحمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لبنان میں ہم ایک غاصب قوت کے خلاف مزاحمتی تنظیم بن کر سامنے آئے ہیں۔ مزاحمت کی ذمہ داری حکومت، فوج اور عوام پر ہے اور ہم سب اپنی سرزمین کی آزادی اور خودمختاری محفوظ بنانے اور غاصب دشمن کو نکال باہر کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ لبنان میں ہماری مزاحمت کی طویل تاریخ ہے اور ہماری نظر میں یہ مزاحمت ایک قومی، اسلامی اور انسانی مزاحمت ہے۔ انسانیت یہ کہتی ہے کہ کوئی بھی انسان ناجائز قبضے کو برداشت نہیں کر سکتا۔"
 
شیخ نعیم قاسم نے اسرائیل کی غاصبانہ پالیسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "آج غاصب صیہونی رژیم جو کچھ غزہ کی پٹی میں کر رہی ہے اسے کم نہ سمجھیں۔ اس وقت غزہ کا 60 فیصد سے زیادہ علاقہ براہ راست اسرائیل کے قبضے میں ہے جبکہ باقی 40 فیصد علاقہ بھی روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بن رہا ہے۔ مغربی کنارے پر اسرائیل کے بتدریج غاصبانہ قبضے کو کم نہ سمجھیں۔ امریکہ اسرائیل کے ان تمام مجرمانہ اقدامات میں برابر کا شریک ہے۔ دراصل یہ امریکہ ہی ہے جو اسرائیل کی جارحیت، غاصبانہ سرگرمیوں، قتل و غارت اور نسل کشی پر مبنی اقدامات کی سرپرستی کرنے میں مصروف ہے۔ اگر دشمن کوئی معاہدہ کرتا ہے وہ صرف کاغذ کے ٹکڑے تک محدود رہتا ہے اور ہر گز اس کی پابندی نہیں کرتا۔ ہمارے پاس اوسلو سے لے کر میڈریڈ تک تمام ثبوت موجود ہیں۔ آج ڈونلڈ ٹرمپ ان تمام جرائم کا ذمہ دار ہے جو غاصب صیہونی رژیم کے ہاتھوں فلسطین میں انجام پا رہے ہیں۔ ہمیں ایسے دشمن سے سامنا ہے جو عوام کو نابود کر دینا چاہتا ہے اور ہر چیز کو تباہ کر دینے کے درپے ہے۔ اسرائیل لبنان سے کیے گئے معاہدے کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری لبنانی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ لبنانی حکومت، جارحیت روکنے اور قومی خودمختاری کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری ہے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کی عماد مغنیہ مزاحمت کی ہے اور

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم