ہیئت آئمہ جمعہ گلگت کے زیر اہتمام استقبالِ ماہِ ولایت و رحمت کانفرنس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اس موقع پر شیخ حفاظت علی جعفری، شیخ نئیر عباس مصطفوی اور دیگر آئمہ جمعہ نے عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے حقیقی استفادہ کرتے ہوئے ملت کی فکری و روحانی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ہیئت آئمہ جمعہ و جماعت شیعہ گلگت کے زیر اہتمام استقبالِ ماہِ ولایت و رحمت کانفرنس نہایت روحانی، فکری اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منعقد ہوئی۔اس بابرکت کانفرنس میں گلگت ڈویژن اور استور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جید علمائے کرام اور آئمہ جمعہ نے بھرپور شرکت کی اور ملتِ تشیع کی دینی، فکری اور اجتماعی رہنمائی کے لیے اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ کانفرنس کی نظامت جنرل سیکریٹری ہیئت آئمہ جمعہ و جماعت شیخ علی محمد عابدی نے انجام دی، جبکہ باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے محفل کو نورانیت اور روحانیت سے معطر کر دیا۔ بعد ازاں صدرِ ہیئت آئمہ جمعہ و جماعت شیعہ گلگت شیخ شرافت علی ولایتی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے گلگت، استور اور نگر سے آنے والے تمام آئمہ جمعہ کو خوش آمدید کہا اور ان کی بھرپور شرکت پر دلی تشکر کا اظہار کیا۔کانفرنس میں منبر و محراب کے اصلاحی اور تربیتی کردار، ملتِ تشیع کو درپیش معاصر چیلنجز، اور ماہِ مبارک رمضان کے بابرکت ایام میں علمائے کرام اور عوام کی دینی و سماجی ذمہ داریوں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر شیخ حفاظت علی جعفری، شیخ نئیر عباس مصطفوی اور دیگر آئمہ جمعہ نے اپنے بصیرت افروز خیالات اور عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے حقیقی استفادہ کرتے ہوئے ملت کی فکری و روحانی تربیت کو یقینی بنایا جائے۔ کانفرنس کے شرکاء نے اس امر پر مکمل اتفاق کیا کہ نوجوان نسل میں ملی شعور، دینی بصیرت اور اسلام فہمی کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل اسلام کی حقیقی روح سے آشنا ہو کر ایک صالح، باکردار اور الٰہی معاشرے کے قیام میں اپنا موثر کردار ادا کر سکے اور استعماری و فکری سازشوں کا مقابلہ بصیرت اور استقامت کے ساتھ کر سکے۔ مزید برآں یہ طے پایا کہ ماہِ مبارک رمضان میں مساجد کو مرکزِ ہدایت بناتے ہوئے قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ قرآن فہمی، دروسِ قرآن اور احادیثِ اہل بیتؑ پر مبنی علمی نشستوں کا باقاعدہ انعقاد یقینی بنایا جائے، تاکہ قوم بالخصوص نوجوان نسل کے اذہان کو قرآن و حدیث کی تعلیمات سے منور کیا جا سکے۔
کانفرنس میں ملتِ تشیع کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد و اتفاق، ملی یکجہتی اور فکری استحکام کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے تمام مساجد کو فکری و تربیتی مراکز میں تبدیل کرتے ہوئے نوجوانوں کی نظریاتی اور اخلاقی تربیت کا مربوط نظام قائم کرنے، اور ہر سطح پر بیداری، بصیرت اور اجتماعی شعور کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ کانفرنس کے اختتام پر آغا سید راحت حسین الحسینی نے خطاب کرتے ہوئے خطباء اور آئمہ جمعہ کی صفات اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی اور تاکید کی کہ وہ اپنے کردار، حسنِ اخلاق، انقلابی فکر اور عوامی رابطے کو مضبوط بناتے ہوئے منبر و محراب کو ہدایت، اتحاد اور بیداری کا مؤثر ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ آئمہ جمعہ عوام کے مسائل کو سن کر ان کے حل کے لیے عملی کردار ادا کریں، تاکہ امت میں ہم آہنگی، اعتماد اور وحدت کو فروغ حاصل ہو۔ آخر میں اس عزمِ صمیم کا اظہار کیا گیا کہ ہیئت آئمہ جمعہ و جماعت شیعہ گلگت ملتِ تشیع کی دینی، فکری اور اجتماعی رہنمائی کے لیے اپنا کردار پوری ذمہ داری، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ادا کرتی رہے گی، اور ماہِ مبارک رمضان کو اصلاحِ نفس، بیداریٔ امت اور اتحادِ ملت کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہیئت آئمہ جمعہ و جماعت بنایا جائے بصیرت اور کرتے ہوئے کو فروغ زور دیا کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan) نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔