40 سال خاندان سے جدائی کا دکھ سہنے بعد بنگلادیش جانے والی رضیہ کو آف لوڈ کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
غمزدہ رضیہ اپنی بپتا سناتے ہوئے۔
بنگلادیش سے پاکستان اسمگل کی جانے والی رضیہ بی بی 40 سال تک خاندان سے جدائی کا دکھ سہتی رہیں اور اہل خانہ سے ملنے کی تڑپ لیے کوششیں جاری رکھیں۔
لیکن جب منزل نزدیک آئی تو ایف آئی اے امگریشن نے آف لوڈ کر دیا، رضیہ بی بی کو 18برس کی عمر میں ایک فیکٹری میں کام کرنے والی ساتھی ورکر نے سونا خریدنے کے بہانے بھارت کے راستے کراچی اسمگل کیا تھا۔
پتوکی سے آئے ہوئے ایک شخص نے انہیں 5000 روپے کے عوض خرید لیا۔ دو سال قبل قریبی فارمسسٹ نے بنگلادیش میں رضیہ کے بتائے ہوئے پتے پر اس کا رابطہ خاندان سے کروایا تھا۔
رضیہ بی بی کا کہنا ہے کہ اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لیے کرب سے گزر رہی ہے، حکومت سے اپیل ہے کہ مسئلے کو جلد حل کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔