عماد وسیم کی سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے دوسری شادی، سابق اہلیہ نے ویڈیو شیئر کردی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم مبینہ طور پر سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ کے ساتھ دوسری بار ازدواجی بندھن میں بندھ گئے۔
عماد وسیم کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے عماد وسیم کی نائلہ راجہ کے ساتھ ایک تقریب کی ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ دونوں نے دوسری شادی کرلی ہے۔
ثانیہ اشفاق نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ سب نے اس بات کا ثبوت دیکھا ہے کہ اس گھر سے نکلنے والے نے ایک بار بھی میرے بچوں کے بارے میں سوچا بھی نہیں‘۔
View this post on InstagramA post shared by @sannia_ashfaq2
انہوں نے لکھا کہ ’آخر کار دھوکہ باز بے نقاب ہو گیا ہے، میں اور بچوں نے اس وجہ سے بہت زیادہ تکالیف برداشت کیں، ہم کٹھن حالات سے گزرے اور انصاف چاہتے ہیں۔
سابق کرکٹ یا سوشل میڈیا انفلوئنسر کی جانب سے شادی کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
View this post on InstagramA post shared by Imad Wasim (@imadwasim)
واضح رہے کہ عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق کی لندن میں ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں نے شادی کی اور یہ رشتہ چھ سال تک چلا اور اس دوران اُن کے ہاں بیٹی زایان کی پیدائش ہوئی۔
دسمبر 2025 میں عماد وسیم نے ثانیہ اشفاق سے گھریلو وجوہات کی بنا پر علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ثانیہ اشفاق نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ عماد وسیم کسی اور لڑکی کے ساتھ تعلقات استوار کررہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ثانیہ اشفاق
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔