قومی کرکٹر عماد وسیم نے دوسری شادی کرلی، نئی دلہن کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
قومی کرکٹر عماد وسیم نے دوسری شادی کرلی ہے۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ میں نے اپنی زندگی کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک کا سامنا کیا جب میری شادی کامیاب نہ ہو سکی۔
View this post on Instagram
A post shared by Imad Wasim (@imadwasim)
انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود اُس دور نے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں عطا کیں، یعنی میرے بچے۔ میں ان سے لفظوں سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں، اور یہ محبت کبھی کم نہیں ہوگی۔
عماد وسیم نے کہاکہ میں ضرورت سے زیادہ عرصہ تک امید کا دامن تھامے رہا اور اُن چیزوں کو بچانے کی کوشش کرتا رہا جو میرے لیے سب سے زیادہ اہم تھیں۔ اس دوران میں نے کچھ ایسے فیصلے کیے جن پر مجھے افسوس ہے۔
’میری تاخیر اور خاموشی نے ایک ایسی صورتحال پیدا کی جس میں ایک بے گناہ شخص کو ناحق تنقید اور فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وہ مستحق نہیں تھی۔ میں اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور سچے دل سے اس بوجھ کو تسلیم کرتا ہوں۔‘
انہوں نے کہاکہ اللہ کے فضل اور اپنے والدین کی رہنمائی سے میں نے اب نائلہ سے شادی کر لی ہے۔ یہ قدم سوچ سمجھ کر اور واضح ارادے کے ساتھ اٹھایا گیا ہے تاکہ ایک ایسی زندگی کی بنیاد رکھی جا سکے جو سکون، استحکام اور باہمی احترام پر قائم ہو۔
انہوں نے لکھا کہ نائلہ نے میری زندگی میں ٹھہراؤ، وقار اور مضبوطی پیدا کی ہے، اور میں اپنے اس فیصلے پر مکمل یقین رکھتا ہوں۔
واضح رہے کہ عماد وسیم نے چند ماہ قبل اپنی پہلی بیوی ثانیہ عاشق کو طلاق دی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews دوسری شادی عماد وسیم قومی کرکٹر نائلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قومی کرکٹر نائلہ وی نیوز انہوں نے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔