WE News:
2026-07-24@00:54:05 GMT

قومی کرکٹر عماد وسیم نے دوسری شادی کرلی، نئی دلہن کون ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

قومی کرکٹر عماد وسیم نے دوسری شادی کرلی، نئی دلہن کون ہیں؟

قومی کرکٹر عماد وسیم نے دوسری شادی کرلی ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ میں نے اپنی زندگی کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک کا سامنا کیا جب میری شادی کامیاب نہ ہو سکی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Imad Wasim (@imadwasim)

انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود اُس دور نے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں عطا کیں، یعنی میرے بچے۔ میں ان سے لفظوں سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں، اور یہ محبت کبھی کم نہیں ہوگی۔

عماد وسیم نے کہاکہ میں ضرورت سے زیادہ عرصہ تک امید کا دامن تھامے رہا اور اُن چیزوں کو بچانے کی کوشش کرتا رہا جو میرے لیے سب سے زیادہ اہم تھیں۔ اس دوران میں نے کچھ ایسے فیصلے کیے جن پر مجھے افسوس ہے۔

’میری تاخیر اور خاموشی نے ایک ایسی صورتحال پیدا کی جس میں ایک بے گناہ شخص کو ناحق تنقید اور فیصلوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وہ مستحق نہیں تھی۔ میں اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور سچے دل سے اس بوجھ کو تسلیم کرتا ہوں۔‘

انہوں نے کہاکہ اللہ کے فضل اور اپنے والدین کی رہنمائی سے میں نے اب نائلہ سے شادی کر لی ہے۔ یہ قدم سوچ سمجھ کر اور واضح ارادے کے ساتھ اٹھایا گیا ہے تاکہ ایک ایسی زندگی کی بنیاد رکھی جا سکے جو سکون، استحکام اور باہمی احترام پر قائم ہو۔

انہوں نے لکھا کہ نائلہ نے میری زندگی میں ٹھہراؤ، وقار اور مضبوطی پیدا کی ہے، اور میں اپنے اس فیصلے پر مکمل یقین رکھتا ہوں۔

واضح رہے کہ عماد وسیم نے چند ماہ قبل اپنی پہلی بیوی ثانیہ عاشق کو طلاق دی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews دوسری شادی عماد وسیم قومی کرکٹر نائلہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قومی کرکٹر نائلہ وی نیوز انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی