3 نابالغ طلبا نے 49 سالہ شخص کو پیڈوفائل قرار دیکر کو پتھر مار مار کر قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
برطانیہ میں تین کم عمر نوجوانوں کو ایک شخص کو لڑکی بن کر ساحل پر بلانے اور پھر تشدد کے بعد ہلاک کرنے کے الزام میں مجرم قرار دے دیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ کینٹ کے ساحلی علاقے آسلے آف شیپی میں پیش آیا جہاں 49 سالہ ایلگزینڈر کیش فورڈ کو پتھروں اور بوتلوں سے مار کر قتل کیا گیا۔
عدالت میں بتایا گیا کہ دو لڑکے جن کی عمریں 15 اور 16 سال ہیں جب کہ ایک 16 سالہ لڑکی نے جعلی نام استعمال کرتے ہوئے مقتول کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔
لڑکی نے خود کو سیئنا نامی کم عمر لڑکی ظاہر کیا اور اسی بہانے مقتول سے رابطہ قائم کیا گیا۔ واقعے کے روز تینوں نے اسے سمندر کے کنارے سی وال کے قریب ملاقات کے لیے بلایا۔
واقعے کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا کہ مقتول پر پہلے بوتل سے وار کیا گیا جس کے بعد وہ جان بچانے کے لیے بھاگا لیکن تینوں نوجوانوں نے اس کا پیچھا کیا۔
حملے کے دوران حملہ لڑکے مقتول کو پیڈو فائل کہتے رہے جبکہ لڑکی چیختے ہوئے کہہ رہی تھی کہ میں ابھی صرف 16 سال کی ہوں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مقتول حملے کے دوران زمین پر گر پڑا لیکن دوبارہ اٹھ کر بھاگا تاہم کچھ ہی دیر بعد لڑکوں نے دوبارہ پکڑ لیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
اس کے صرف 68 منٹ بعد ہی وہ شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کے سر اور چہرے پر شدید چوٹیں، جسم پر نیل، متعدد پسلیاں ٹوٹ کر پھیپھڑوں میں پیوست ہوگئی تھیں۔
استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حملہ کسی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان نوجوانوں نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مقتول پر حملہ کریں گے اور تینوں نے اس میں فعال کردار ادا کیا۔
عدالت نے تینوں کو قتل کے الزام سے بری کر دیا تاہم دو نوجوانوں کو غیر ارادی قتل کا مجرم جبکہ لڑکی پہلے ہی جرم کا اعتراف کرچکی ہے۔ سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔