حکومت بلوچستان نے 3 لاکھ 28 ہزار خاندانوں کیلیے رمضان پیکیج کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)بلوچستان حکومت نے 3 لاکھ 28 ہزار خاندانوں کے لیے رمضان پیکج کا اعلان کر دیا ،ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کے مطابق پیکج صوبے کے تمام اضلاع میں شفاف طریقے سے تقسیم کیا جائے گا۔یہ بات ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صوبے بھر کے 3 لاکھ 28 ہزار مستحق خاندانوں کے لیے خصوصی رمضان پیکج منظور کیا گیا ہے۔ یہ پیکج صوبے کے تمام اضلاع میں تقسیم کیا جائے گا اور اس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار تقسیم کار کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا ہے اور ہر ضلع میں 8 رکنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے ذریعے راشن کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ حکام کے مطابق اب تک 20 سے زائد اضلاع میں رمضان پیکج پہنچایا جا چکا ہے جبکہ باقی اضلاع میں بھی جلد فراہمی مکمل کر لی جائے گی۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ پیکج کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور سخت نگرانی کے تحت تقسیم کا عمل جاری رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ راشن صرف مستحق اور غریب خاندانوں تک محدود رکھا جائے گا اور کسی غیر متعلقہ فرد کو فائدہ نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ جہانزیب خان کے مطابق یہ رمضان پیکج ہر خاندان کے لیے پندرہ دن کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے تاکہ مہنگائی کے دور میں مستحق طبقات کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رمضان پیکج اضلاع میں جائے گا گیا ہے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔