مغرب کا محاذ تقسیم کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: یورپی یونین، وائٹ ہاؤس پر انحصار ختم کر کے زیادہ آزاد اور مختار ہونے کے لیے دفاع، معیشت، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ ان منصوبوں میں ری آرم یورپ پلان اور دفاعی صنعت میں 800 ارب یورو سے زیادہ کی سرمایہ کاری، سرحد پار فوجی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے فوجی نیٹ ورک کی تشکیل اور فرانس، جرمنی اور اسپین کی طرف سے اگلی نسل کے لڑاکا طیارے بنانے کا مشترکہ منصوبہ شامل ہیں۔ مزید برآں، 2026ء میں یورپی یونین کی نئی سیکورٹی حکمت عملی، جیوپولیٹیکل فیصلہ سازی میں خودمختاری، فوجی طاقت مضبوط بنانے اور توانائی کے شعبوں میں نئی پالیسیاں اختیار کرنے پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لبرل نظام کے خاتمے کے بعد روس، چین اور امریکہ جیسی طاقتور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں متحدہ یورپ بھی ایک خودمختار کھلاڑی کے طور پر سامنے آ سکے۔ تحریر: علی احمدی
13 فروری سے شروع ہونے والی میونخ سیکیورٹی کانفرنس 2026ء میں امریکی اور یورپی حکام کے بیانات نے بحر اوقیانوس کے دونوں اطراف کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو بے نقاب کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں بتدریج اسٹریٹجک علیحدگی کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔ اپنی افتتاحی تقریر میں جرمنی کے چانسلر فریڈرک میرٹس نے اعلان کیا کہ "اصولوں پر مبنی عالمی نظام مزید موجود نہیں رہا" اور یہ کہ یورپ اور امریکہ کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے، جہاں امریکہ عالمی قیادت سے "محروم" ہو چکا ہے۔ اسی طرح جب کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بھی خبردار کیا کہ یورپ کو "امریکہ کی مزید دشمنی" کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن "علیحدگی" نہیں بلکہ اتحاد کی "بحالی" چاہتا ہے۔ روبیو نے یورپ سے خود کو مضبوط کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
پرانے اتحادیوں میں تلخ کلامی
اقوام متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز نے 2026ء میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں دفاعی امور میں یورپ کی خودمختاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کیا اور کہا کہ امریکی عوام، دوسری عالمی جنگ کے بعد سے عالمی نظام کے لیے بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ اس نے یورپ سے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے اور واشنگٹن پر انحصار کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال بہت ہی ناپائیدار ہے کیونکہ واشنگٹن مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔ دوسری طرف، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کایا کالس نے والٹز کے موقف پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب روس جنگ شروع کرتا ہے تو وہ تنہا ہوتا ہے کیونکہ اس کا کوئی اتحادی نہیں، لیکن جب امریکا کوئی جنگ کرتا ہے تو یورپ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔
اسٹونیا کے اس سیاست دان نے اس بات پر زور دیا کہ وائٹ ہاؤس اپنی سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے یورپ کا محتاج ہے اور وہ تنہا کام نہیں کر سکتا۔ کالس نے یورپ کو برابر کا شریک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سبز براعظم نے بین الاقوامی بجٹ اور فوجی کارروائیوں میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ درحقیقت، امریکہ اس وقت ایسی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے جس سے ملتی جلتی صورتحال کا سامنا تاریخ میں بہت سی عالمی طاقتوں کو کرنا پڑا ہے۔ واشنگٹن کے نئے فیصلہ سازوں کا خیال ہے کہ سرد جنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کے وسائل امریکی مفادات حاصل کرنے کے بجائے ایک عالمی لبرل نیٹ ورک کے لیے خرچ ہوتے رہے ہیں۔ لہذا ٹرمپ حکومت، عالمگیریت کی اقتصادی، سماجی اور ثقافتی پالیسیوں سے ناراضی طبقات کی نمائندہ کے طور پر، دنیا کے دیگر ممالک کا گریبان پکڑنے میں مصروف ہے۔
خودمختاری کی جانب اٹھتے قدم
میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے دوران فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امید اور عزم کے پیغام پر زور دیتے ہوئے یورپ کو دنیا کے لیے رول ماڈل قرار دیا اور کہا کہ سبز براعظم کو لمبی عمر، سائنس اور موسمیاتی پالیسی کے شعبوں میں اپنی کامیابیوں پر فخر کرنا چاہیے۔ اس نے یورپ کے جرات مند ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ یورپ ایک جیوپولیٹیکل طاقت بن جائے اور اپنا ڈی این اے تبدیل کر کے آزادانہ طور پر کام کرے۔ اسی طرح برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اپنی تقریر میں طاقتور ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: " یورپ کو چاہیے کہ وہ اپنی عوام، اقدار اور طرز زندگی کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی بیرونی جارحیت کو روکنے اور حتی جنگ کے لیے تیار ہو جائے"۔
یورپی یونین، وائٹ ہاؤس پر انحصار ختم کر کے زیادہ آزاد اور مختار ہونے کے لیے دفاع، معیشت، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں میں جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ ان منصوبوں میں ری آرم یورپ پلان اور دفاعی صنعت میں 800 ارب یورو سے زیادہ کی سرمایہ کاری، سرحد پار فوجی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے فوجی نیٹ ورک کی تشکیل اور فرانس، جرمنی اور اسپین کی طرف سے اگلی نسل کے لڑاکا طیارے بنانے کا مشترکہ منصوبہ شامل ہیں۔ مزید برآں، 2026ء میں یورپی یونین کی نئی سیکورٹی حکمت عملی، جیوپولیٹیکل فیصلہ سازی میں خودمختاری، فوجی طاقت مضبوط بنانے اور توانائی کے شعبوں میں نئی پالیسیاں اختیار کرنے پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لبرل نظام کے خاتمے کے بعد روس، چین اور امریکہ جیسی طاقتور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں متحدہ یورپ بھی ایک خودمختار کھلاڑی کے طور پر سامنے آ سکے۔
براعظم یورپ میں امریکہ کے اہداف
قومی سلامتی کی حکمت عملی 2025ء (NSS) اور قومی دفاعی حکمت عملی 2026ء (NDS) جیسی امریکی بالادستی پر مشتمل دستاویزات کے مطابق، یورپ میں ٹرمپ حکومت کا مقصد مکمل علیحدگی نہیں بلکہ ایک ایسے نئے آرڈر کی بنیاد پر ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کی تعمیر نو ہے جو امریکہ کے یکطرفہ مفادات کو ترجیح دیتا ہو۔ این ایس ایس اس بات پر زور دیتا ہے کہ یورپ اپنے روایتی دفاع کی بنیادی ذمہ داری قبول کرے اور دفاعی بجٹ میں اپنے جی ڈی پی کے کم از کم 5 فیصد حصے تک اضافہ کرے۔ قابل اعتماد تجزیات کے بقول یہ پالیسیاں "امریکہ فرسٹ" پر مبنی نقطہ نظر کا حصہ ہیں۔ بروکنگز کے مطابق این ایس ایس بہت زیادہ "اکیسویں صدی کی منرو ڈاکٹرائن" سے مشابہت رکھتی ہے جس میں یورپ سے دور رہنے پر زور دیا گیا ہے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ سیکورٹی ترجیحات مغربی نصف کرہ کی طرف منتقل ہو چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور توانائی کے شعبوں میں یورپی یونین پر زور دیا دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس حکمت عملی میں یورپ نے یورپ یورپ کو کہ یورپ کہا کہ کے لیے کے بعد
پڑھیں:
اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.
FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔
گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز