مودی حکومت بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے سے کسانوں کو گمراہ کررہی ہے، جے رام رمیش
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر تجارت بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکی معاہدے سے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش نے امریکی ہند تجارتی معاہدے کے اثرات کو لے کر مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر تجارت مسلسل اور دانستہ طور پر ملک کو گمراہ کر رہے ہیں، جبکہ اس معاہدے سے مختلف ریاستوں کے لاکھوں کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر تجارت بار بار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکی معاہدے سے کسانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر کپاس کے کاشتکار اس فیصلے سے براہ راست متاثر ہوں گے اور ان کی معاشی حالت مزید کمزور ہوسکتی ہے۔
جے رام رمیش نے پوسٹ میں روززنامہ "دی ہندو" کے جس خبر کا لنک شیئر کیا ہے اس میں بتایا گیا کہ وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان امریکہ سے خام کپاس خرید کر یہاں اس کی پروسیسنگ کرے اور تیار کپڑا دوبارہ امریکہ برآمد کرے تو ہندوستان کو بھی بنگلہ دیش کی طرح زیرو جوابی ٹیرف کی سہولت مل سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد مختلف کسان تنظیموں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ خبر کے مطابق سنیوکت کسان مورچہ اور دیگر تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ سے خام کپاس زیرو ٹیرف پر درآمد کی گئی تو اس سے گھریلو بازار میں قیمتیں گر سکتی ہیں اور کپاس اگانے والے کسان شدید بحران کا شکار ہو جائیں گے۔
کسان لیڈروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کم از کم امدادی قیمت کسانوں کی لاگت کے مطابق نہیں ہے اور ایسے میں سستی درآمدات سے مقامی پیداوار متاثر ہوگی۔ جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرے اور ایسے کسی بھی تجارتی قدم سے گریز کرے جس سے دیہی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت معاہدے کی اصل شرائط عوام کے سامنے صاف طور پر پیش نہیں کر رہی اور کسانوں کو حقیقت سے دور رکھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ وزیر تجارت کسانوں کو معاہدے سے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔