ایران کیساتھ معاہدے کا ہوجانا اب بہت مشکل ہوگیا، امریکی وزیر خارجہ نے وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ جاری جوہری معاہدے کے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کو بہت مشکل قرار دیدیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ہنگری کے دورے پر وزیرِاعظم وکٹر اوربان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کی۔
ان کے بقول ایران کے ساتھ معاملات اس لیے پیچیدہ ہیں کیونکہ وہاں ہم ایسے سخت گیر شیعہ مذہبی رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں جو ملکی فیصلے بین الاقوامی سیاست یا جغرافیائی حقائق کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ مذہبی عقائد کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
مارکو روبیو کا مزید کہنا تھا کہ امریکا سفارتی کاری کے ذریعے ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کے لیے تیار ہے جو ہمارے خدشات کو دور کرسکے تاہم اس کے بارے میں غیر ضروری خوش فہمی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ماضی میں بھی حقیقی اور پائیدار معاہدے کرنا مشکل ثابت ہوا ہے اور اس بار بھی حالات اب تک بہت حوصلہ افزا نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مسقط میں ہوا جہاں فریقین نے ایک دوسرے سے براہ راست بات چیت تو نہیں کی لیکن علیحدہ علیحدہ عمانی وزیر کارجہ سے ملاقات میں اپنے اپنے تحفظات اور مطالبات پیش کیے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اب دوسرا جلد ہی شروع ہونے والا ہے تاہم اس سے قبل وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس مایوس کن بیان نے ایک بار پھر کئی خدشات کو جنم دیدیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران کے ساتھ امریکی وزیر مارکو روبیو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔