قرآن مجید محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے‘حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-01-15
کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے قرآن انسٹیٹیوٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر اس کے قیام کو ایک اہم فکری و تربیتی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قرآنِ مجید محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس پر عمل کیے بغیر معاشرتی و اخلاقی اصلاح ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کے نظام کو گھروں، تعلیمی اداروں، معاشرے اور ریاستی سطح پر نافذ کرنے کی جدوجہد ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ قرآن انسٹیٹیوٹ برائے خواتین، قرآن کو ترجمہ و تفسیر کے ساتھ سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے معاشرے تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔ انہوں نے انسٹیٹیوٹ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین قرآن کی تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں اور یہ ادارہ اس حوالے سے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔ ناظمہ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کراچی جاوداں فہیم نے کہا کہ قرآن انسٹیٹیوٹ کا قیام خواتین میں دینی شعور، فکری تربیت اور اخلاقی اصلاح کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید سے دوری کے باعث امت مسلمہ زوال کا شکار ہوئی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم قرآن کو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کا مرکز بنائیں۔جاوداں فہیم نے مزید کہا کہ حلقہ خواتین قرآن کی تعلیم و تربیت کو عام کرنے کے لیے شہر بھر میںدورہ قرآن، تربیتی نشستوں اور فکری پروگراموں کا انعقاد کر رہا ہے، تاکہ خواتین قرآن کی روشنی میں اپنے گھروں، معاشرے اور آنے والی نسلوں کی تربیت کر سکیں۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ ادارہ دین کی خدمت اور معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کرے۔تقریب میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی، جنہوں نے قرآن انسٹیٹیوٹ کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے فکری و روحانی تربیت کا ایک اہم مرکز قرار دیا۔ افتتاحی تقریب سے ناظمہ صوبہ سندھ رخشندہ منیب، ناظمہ ضلع قائدین نزہت ذاکر، پرنسپل قرآن انسٹیٹیوٹ کیمپس1 روبینہ سلیم نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن ، ناظمہ کراچی جاوداں فہیم قرآن انسٹیٹیوٹ (برائے خواتین) کیمپس 1کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن قرا ن انسٹیٹیوٹ کہا کہ قرا ن
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :