data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف ر پورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن شبیر قریشی نے اپنے نقطہ اعتراض پر کہا کہ گزشتہ دنوں ہمارے ایک ایم پی اے اور کارکارکنان پر پولیس تشدد ہوا تھا۔شرجیل میمن نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر داخلہ نے نہ صرف بات کی بلکہ معذرت کا اظہار بھی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک ایم پی اے پر تشدد ہوا اس پر ہم شرمندہ ا ور معذرت خواہ ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایم پی اے پر تشدد پر ایس ایس پی فدا جانوری کے خلاف ایکشن ہوگا لیکن یہاں یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو آپ نے کبھی معافی نہیں مانگی۔آپ کی حکومت نے اپنے مخالفین پر ظلم کے پہاڑ گرائے تھے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح آپ کے حکومت نے سیاسی رہنمائوں کے خلاف مقدمے بنائے یاد کریں۔فریال تالپور کو عید کی رات کو جیل میں ڈالا گیا۔ خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان میں پیر کو محکمہ اطلاعات سے متعلق وقفہ سوالات تھا۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںسزا جزا کے قوانین موجود ہیں مگرپیکا ایکٹ کا ایک صوبے میں غلط استعمال ہوا۔ ایک صحافی کو غلط طریقے سے اٹھایا گیا بعد میں چھوڑدیا گیا۔ میری درخواست ہے کہ اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور ڈی فیمینیشن کی سزا سخت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا کام قانون سازی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو خبریں چلتی ہیں انکا کوئی سر اور پیر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کی آزادی کے خلاف بالکل نہیں ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ اخبارات کی مالی امداد کا کوئی طریقہ موجود نہیں تاہم حکومت اخبارات کی سرکیولیشن چیک کر کہ انہیں اشتہار دیتی ہے۔ نجی میگزین بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ روزہ اخبارات کو ہم کم اشتہار دیتے ہیں جبکہ حکومت روزناموں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن آصف موسی نے دریافت کیا کہ صحافیوں کی مالی امداد کا کیا طریقہ کار ہے؟ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ مختلف پریس کلبز کو گرانٹس دیتی ہے ، صحافتی تنظیموں کو گرانٹس دی جاتی ہے ۔ وہ اپنے حساب سے صحافیوں کو پیسے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ضرورت مند صحافیوں کو علاج معالجے میں بھی بلاامتیاز مدد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صحافیوں کے کہتے ہیں خط و خطابت بعد میں ہوتی رہے گی پہلے آپ علاج کروائیں۔ہم 24 گھنٹے صحافیوں کے لیے موجود رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن سجاد سومرو نے پوچھا کہ کتنے اخبارات شائع ہوتے ہیں اور کتنے کاغذی کارروائی کی حد تک موجود ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ چند اخبارات کی سرکیولیشن اچھی ہے۔ وفاقی حکومت سے اخبارات کا اے بی سی ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اخبارات کے اشتہارات کے ریٹ بھی وفاقی حکومت طے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اے پی این ایس سے کہا ہے کہ اشتہارات آپ تقسیم کریں۔ انہوں نے پہلے حامی بھرلی تھی لیکن پھر جواب نہیں آیا۔تحریری طور پر خط لکھا تو اس کا جواب بھی نہیں آیا ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں تیار ہوں کہ اے پی این ایس اشتہارات تقسیم کرے۔ سجاد سومرو نے پوچھا کہ جھوٹی خبر چلانے پر کتنے اخبارات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فیک نیوز کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ ہم قانون بنائیں گے تاکہ جھوٹی خبر کے خلاف کارروائی کر سکیں۔ یہ قوانین سیاستدانوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی ڈجیٹل میڈیا کو بھی اشتہارات دینا شروع کیے ہیں۔ بعدازاںسندھ اسمبلی کا اجلاس آج منگل دوپہر12 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ میمن نے کہا کہ اخبارات کی موجود ہیں کہا کہ ا کے خلاف

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن