اخبارات کی مالی امداد کا کوئی طریقہ موجود نہیں‘شر جیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف ر پورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن شبیر قریشی نے اپنے نقطہ اعتراض پر کہا کہ گزشتہ دنوں ہمارے ایک ایم پی اے اور کارکارکنان پر پولیس تشدد ہوا تھا۔شرجیل میمن نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر داخلہ نے نہ صرف بات کی بلکہ معذرت کا اظہار بھی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک ایم پی اے پر تشدد ہوا اس پر ہم شرمندہ ا ور معذرت خواہ ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایم پی اے پر تشدد پر ایس ایس پی فدا جانوری کے خلاف ایکشن ہوگا لیکن یہاں یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو آپ نے کبھی معافی نہیں مانگی۔آپ کی حکومت نے اپنے مخالفین پر ظلم کے پہاڑ گرائے تھے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح آپ کے حکومت نے سیاسی رہنمائوں کے خلاف مقدمے بنائے یاد کریں۔فریال تالپور کو عید کی رات کو جیل میں ڈالا گیا۔ خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان میں پیر کو محکمہ اطلاعات سے متعلق وقفہ سوالات تھا۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںسزا جزا کے قوانین موجود ہیں مگرپیکا ایکٹ کا ایک صوبے میں غلط استعمال ہوا۔ ایک صحافی کو غلط طریقے سے اٹھایا گیا بعد میں چھوڑدیا گیا۔ میری درخواست ہے کہ اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور ڈی فیمینیشن کی سزا سخت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا کام قانون سازی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو خبریں چلتی ہیں انکا کوئی سر اور پیر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کی آزادی کے خلاف بالکل نہیں ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ اخبارات کی مالی امداد کا کوئی طریقہ موجود نہیں تاہم حکومت اخبارات کی سرکیولیشن چیک کر کہ انہیں اشتہار دیتی ہے۔ نجی میگزین بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ روزہ اخبارات کو ہم کم اشتہار دیتے ہیں جبکہ حکومت روزناموں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن آصف موسی نے دریافت کیا کہ صحافیوں کی مالی امداد کا کیا طریقہ کار ہے؟ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ مختلف پریس کلبز کو گرانٹس دیتی ہے ، صحافتی تنظیموں کو گرانٹس دی جاتی ہے ۔ وہ اپنے حساب سے صحافیوں کو پیسے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ضرورت مند صحافیوں کو علاج معالجے میں بھی بلاامتیاز مدد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صحافیوں کے کہتے ہیں خط و خطابت بعد میں ہوتی رہے گی پہلے آپ علاج کروائیں۔ہم 24 گھنٹے صحافیوں کے لیے موجود رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن سجاد سومرو نے پوچھا کہ کتنے اخبارات شائع ہوتے ہیں اور کتنے کاغذی کارروائی کی حد تک موجود ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ چند اخبارات کی سرکیولیشن اچھی ہے۔ وفاقی حکومت سے اخبارات کا اے بی سی ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اخبارات کے اشتہارات کے ریٹ بھی وفاقی حکومت طے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اے پی این ایس سے کہا ہے کہ اشتہارات آپ تقسیم کریں۔ انہوں نے پہلے حامی بھرلی تھی لیکن پھر جواب نہیں آیا۔تحریری طور پر خط لکھا تو اس کا جواب بھی نہیں آیا ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں تیار ہوں کہ اے پی این ایس اشتہارات تقسیم کرے۔ سجاد سومرو نے پوچھا کہ جھوٹی خبر چلانے پر کتنے اخبارات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فیک نیوز کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ ہم قانون بنائیں گے تاکہ جھوٹی خبر کے خلاف کارروائی کر سکیں۔ یہ قوانین سیاستدانوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی ڈجیٹل میڈیا کو بھی اشتہارات دینا شروع کیے ہیں۔ بعدازاںسندھ اسمبلی کا اجلاس آج منگل دوپہر12 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ میمن نے کہا کہ اخبارات کی موجود ہیں کہا کہ ا کے خلاف
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ