data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260217-01-10
کراچی(اسٹاف ر پورٹر) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن شبیر قریشی نے اپنے نقطہ اعتراض پر کہا کہ گزشتہ دنوں ہمارے ایک ایم پی اے اور کارکارکنان پر پولیس تشدد ہوا تھا۔شرجیل میمن نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر داخلہ نے نہ صرف بات کی بلکہ معذرت کا اظہار بھی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک ایم پی اے پر تشدد ہوا اس پر ہم شرمندہ ا ور معذرت خواہ ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات نہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایم پی اے پر تشدد پر ایس ایس پی فدا جانوری کے خلاف ایکشن ہوگا لیکن یہاں یہ بھی یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو آپ نے کبھی معافی نہیں مانگی۔آپ کی حکومت نے اپنے مخالفین پر ظلم کے پہاڑ گرائے تھے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح آپ کے حکومت نے سیاسی رہنمائوں کے خلاف مقدمے بنائے یاد کریں۔فریال تالپور کو عید کی رات کو جیل میں ڈالا گیا۔ خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ ایوان میں پیر کو محکمہ اطلاعات سے متعلق وقفہ سوالات تھا۔ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کے جواب دیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںسزا جزا کے قوانین موجود ہیں مگرپیکا ایکٹ کا ایک صوبے میں غلط استعمال ہوا۔ ایک صحافی کو غلط طریقے سے اٹھایا گیا بعد میں چھوڑدیا گیا۔ میری درخواست ہے کہ اس معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنائیں اور ڈی فیمینیشن کی سزا سخت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا کام قانون سازی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو خبریں چلتی ہیں انکا کوئی سر اور پیر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کی آزادی کے خلاف بالکل نہیں ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ اخبارات کی مالی امداد کا کوئی طریقہ موجود نہیں تاہم حکومت اخبارات کی سرکیولیشن چیک کر کہ انہیں اشتہار دیتی ہے۔ نجی میگزین بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ روزہ اخبارات کو ہم کم اشتہار دیتے ہیں جبکہ حکومت روزناموں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن آصف موسی نے دریافت کیا کہ صحافیوں کی مالی امداد کا کیا طریقہ کار ہے؟ شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ مختلف پریس کلبز کو گرانٹس دیتی ہے ، صحافتی تنظیموں کو گرانٹس دی جاتی ہے ۔ وہ اپنے حساب سے صحافیوں کو پیسے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ ضرورت مند صحافیوں کو علاج معالجے میں بھی بلاامتیاز مدد فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم صحافیوں کے کہتے ہیں خط و خطابت بعد میں ہوتی رہے گی پہلے آپ علاج کروائیں۔ہم 24 گھنٹے صحافیوں کے لیے موجود رہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے رکن سجاد سومرو نے پوچھا کہ کتنے اخبارات شائع ہوتے ہیں اور کتنے کاغذی کارروائی کی حد تک موجود ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ چند اخبارات کی سرکیولیشن اچھی ہے۔ وفاقی حکومت سے اخبارات کا اے بی سی ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اخبارات کے اشتہارات کے ریٹ بھی وفاقی حکومت طے کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اے پی این ایس سے کہا ہے کہ اشتہارات آپ تقسیم کریں۔ انہوں نے پہلے حامی بھرلی تھی لیکن پھر جواب نہیں آیا۔تحریری طور پر خط لکھا تو اس کا جواب بھی نہیں آیا ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں تیار ہوں کہ اے پی این ایس اشتہارات تقسیم کرے۔ سجاد سومرو نے پوچھا کہ جھوٹی خبر چلانے پر کتنے اخبارات کے خلاف کارروائی کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ فیک نیوز کے بارے میں قوانین موجود ہیں۔ ہم قانون بنائیں گے تاکہ جھوٹی خبر کے خلاف کارروائی کر سکیں۔ یہ قوانین سیاستدانوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی ڈجیٹل میڈیا کو بھی اشتہارات دینا شروع کیے ہیں۔ بعدازاںسندھ اسمبلی کا اجلاس آج منگل دوپہر12 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ میمن نے کہا کہ اخبارات کی موجود ہیں کہا کہ ا کے خلاف

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن