سندھ حکومت کی فسطائیت کےخلاف نواب شاہ میں جماعت اسلامی نےیوم احتجاج منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نواب شاہ: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پرکراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنان پر وحشیایہ تشدد ، شیلنگ اور ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف کراچی سمیت ملک بھر کی طرح نواب شاہ میں بھی یوم احتجاج منایا گیا۔جس میں کارکنان سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے لاقانونیت، بدامنی، بڑھتی ہوئی چوری، ڈکیتیوں، طویل لوڈشیڈنگ، ٹریفک جام اور تجاوزات کے مسائل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز تھے جن پر شہری مسائل کے فوری حل کے مطالبات درج تھے۔جبکہ فضا نعروں سے گونجتی رہی۔
اس موقع پرمقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ شہر کے باسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور انتظامیہ کی خاموشی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہوتا ہے اور اسے دبانے کے بجائے سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ عوام کو تحفظ، بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور ٹریفک کے منظم نظام کی ضمانت دی جائے، تاکہ شہری سکون کا سانس لے سکیں۔
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ کراچی میں پُرامن کارکنان پر آنسو گیس کی شیلنگ اور طاقت کا استعمال افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے اس موقع پر عزم ظاہر کیا کہ وہ شہری حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اور عوامی آواز کو ہر فورم پر بلند کرتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔