کراچی احتجاج: جماعت اسلامی کے 30 کارکنان کو جیل ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
انسداد دہشتگردی عدالت نے جماعت اسلامی کے 30 کارکنان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کا کل ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان
پیر کو جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جہاں پولیس نے جماعت اسلامی کے گرفتار 30 کارکنان کو عدالت میں پیش کیا۔
تفتیشی افسر کی جانب سے جماعت اسلامی کے کارکنان کو جسمانی ریمانڈ پر دینے کی استدعا کی گئی۔ وکیل سرکار نے مؤقف اپنایا کہ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ہے لہٰذا ان کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی آر میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے دہشت پھیلنے کا اندیشہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر میں فائرنگ کا ذکر ہے لیکن کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا اور احتجاج عوامی حق ہے لہٰذا ایف آئی آر سے دہشتگردی کی دفعات ختم کی جائیں۔
مزید پڑھیے: کراچی میں ٹریفک حادثات، جماعت اسلامی کا شہر بھر میں احتجاجی دھرنوں کا اعلان
دوران سماعت جماعت اسلامی کے گرفتار ایک کارکن کی حالت ناساز ہونے پر انہیں این آئی سی سی ڈی منتقل کردیا گیا عدالت نے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر مقدمہ کا چالان طلب کرلیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انسداد دہشتگردی عدالت جماعت اسلامی کا کراچی میں احتجاج جماعت اسلامی کے کارکنان کو جیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت جماعت اسلامی کا کراچی میں احتجاج جماعت اسلامی کے کارکنان کو جیل جماعت اسلامی کے کارکنان کو
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔