حکومت نے عمران خان کی صحت سے متعلق ہمارا کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے حکومت نے ان کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے مطالبات میں کسی رپورٹ کا ذکر شامل نہیں تھا بلکہ بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے ذاتی ڈاکٹر سے معائنہ کرانے اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جو ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ سہیل آفریدی نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت ذاتی معالج تک رسائی کی اجازت نہیں دے رہی تو وہ کیا چھپانا چاہتی ہے؟
انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں عوام نے اپنی سطح پر دھرنے دیے ہوئے ہیں، تاہم پی ٹی آئی یا اپوزیشن اتحاد نے پارلیمنٹ اور کے پی ہاؤس کے علاوہ کہیں دھرنے کی کال نہیں دی۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ پی ٹی آئی میں فیصلوں کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس ہے اور انہی کی کال پر وہ اسلام آباد میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
علیمہ خان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں اور ان کا پی ٹی آئی یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے انہیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی پی ٹی آئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔