Express News:
2026-07-24@03:57:40 GMT

حسب ضرورت… (پہلا حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

’’ بڑا پیارا سوٹ پہنا ہوا ہے تم نے نسرین!‘‘ میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی، باقی باتیں جو ختم ہو گئی تھیں۔ اکثر آپ کو خواتین کی محفل میںکپڑوں اورجوتوں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی موضوع نہیں ہوتا حالانکہ اس سے پہلے وہ تمام موضوعات جن پر انھیں عبور حاصل ہے،  پر حسب توفیق گفتگو کر چکی ہوتی ہیں۔

’’ بہت بہت شکریہ، تمہیں واقعی پسند آیا یا ایسے ہی میرا دل رکھنے کو کہہ رہی ہو؟‘‘ اس نے حسب عادت سوال کیا۔

’’ نہیں واقعی بہت اچھا ہے۔‘‘

’’ میں نے فلاں برانڈ سے لیا تھا، سلمان تو کہہ رہے تھے کہ یہ اتنا اچھا نہیں ہے مگر مجھے پتا تھا کہ یہ سل کر اچھا لگے گا، مردوں کو کہاں کپڑوں کا پتا ہوتا ہے، ان کی ماننے لگو تو جانے کیسے اونترے اونترے سے کپڑے پہننے لگو گے۔ سارا کمال تو میرے درزی کا ہے، اس نے ہی سارے ششکے کر کے اس جوڑے کو اتنا کمال کا بنا دیا ہے۔ سلائی تو زیادہ لیتا ہے مگر کام اچھا کرتا ہے۔

سادہ سلائی کا جوڑا تین ہزار روپے میں سیتا ہے مگر میرا کوئی جوڑا عام ہوتا کہاں ہے سو وہ میرے جوڑے چھ سات ہزار سے کم میں نہیں سیتا۔ اوپر سے کمال دیکھو اپنی سہیلی کا کہ سر سے پاؤں تک میچنگ سے میں ہر جوڑے کی کافی ٹشن نکال لیتی ہوں، پرس تو خریدنا پڑتا ہے مگر جوتے تو میں اپنے جوڑوں کے میچنگ خود بنواتی ہوں، اسی لیے تو اتنا اچھی میچنگ ہوتی ہے۔ ( اس کے کہنے پر میں نے دیکھا تو واقعی جوتے اس کے قمیض کے کپڑے سے بنے ہوئے تھے۔ میاں کے پاس پیسہ ہو تو پھر بیویوں کے ایسے نخرے تو بنتے ہیں۔‘‘ اس نے شاید میرے سادہ سے جوڑے پر طنز کیا تھا، مجھے خود پر غصہ بھی آیا کہ یوں ماسیوں والے حلیے میں کامکار چھوڑ کر، مال آجانے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔

نسرین اور میں اس روز مال میں اتفاقاً ہی مل گئے تھے، ہم دونوں ہی اس وقت تنہا تھیں اور پندرہ بیس سال کے بعد کی ملاقات کو ہم یوں سرراہ کیسے سلام دعا کر کے ختم کر دیتے سو دونوں ایک کافی شاپ میں جا کر بیٹھیں اور کافی آرڈر کر دی۔ باقی تعارفی باتیں کھڑے کھڑے ہو گئی تھیں تو بیٹھ کر میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی تھی۔ ساری دنیا میں اتنے انقلابات آگئے تھے مگر نسرین کا سوائے عمر کے کچھ نہیں بدلا تھا۔ مجھے یاد آ گیا کہ نویں کلاس کے امتحانات ہو رہے تھے۔

 اس نے ایک سوال کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا کہ میںنے اس کا کیا جواب لکھا تھا۔ میں نے بتایا تو اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا… ’’ کیا تم نے ارکان اسلام کا جواب صرف پانچ الفاظ میں لکھاہے؟‘‘’’ ہاں ، کلمہ، نماز ، روزہ، زکوۃ اور حج!!‘‘ میںنے اسے بتایا۔’’ اور تمہیں لگتا ہے کہ اس جواب پر تمہیں پورے نمبر مل جائیں گے؟‘‘ اس نے طنز سے کہا۔ ’’ اچھا اب بتاؤ کہ تم نے پاکستان کے موسموں والے سوال کا کیا جواب لکھا ہے؟‘‘ اسے یونہی عادت تھی کہ کمرہء امتحان سے باہر نکل کر کبھی کسی سے اور کبھی کسی سے ایسے سوال کرتی تھی اور انھیں طنز سے کہتی کہ وہ تو مشکل سے ہی پاس کر پائیں گے۔’’ میںنے لکھا کہ پاکستان میں چار موسم ہیں، موسم سرما، موسم گرما، موسم بہار اور موسم سرما۔‘‘ میں نے بتایا تو اس کی آنکھوں میں ہنس ہنس کر آنسو آگئے۔

’’ ایک تو جواب اتنا مختصر، اوپر سے ترتیب بھی غلط!‘‘ اس نے ہنسی کے درمیان کہا۔

’’ جتنا سوال تھا، اتنا ہی میں نے جواب لکھ دیاحسب ضرورت اور ترتیب سے لکھنے کو تو کہا بھی نہیں گیا تھا۔‘‘ ’’ تم بالکل بے وقوف ہو، حسب ضرورت تو یوں کہہ رہی ہو جیسے تم نے خرید خرید کر لکھنا تھا، بھئی مفت میں لکھنا ہوتا ہے تو حسب توفیق لکھا کرو، حسب خواہش لکھا کرو۔ زیادہ لکھنے سے امتحانی پرچہ چیک کرنے والا متاثر ہوتا ہے اور زیادہ نمبر دیتا ہے۔‘‘ اس کی منطق نرالی تھی میںبحث نہیں کرتی تھی اور جب نتیجہ آیا تو میرے زیادہ نمبر آنے کا سن کر تو اس نے رو رو کر دریا بہا ڈالے کہ میں نے جو پرچہ چار شیٹ پر حل کیا تھا اس نے دس شیٹ پر حل کیا تھا۔

(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہے مگر

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف