Express News:
2026-06-03@02:05:27 GMT

حسب ضرورت… (پہلا حصہ)

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

’’ بڑا پیارا سوٹ پہنا ہوا ہے تم نے نسرین!‘‘ میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی، باقی باتیں جو ختم ہو گئی تھیں۔ اکثر آپ کو خواتین کی محفل میںکپڑوں اورجوتوں کی باتیں سننے کو ملتی ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی موضوع نہیں ہوتا حالانکہ اس سے پہلے وہ تمام موضوعات جن پر انھیں عبور حاصل ہے،  پر حسب توفیق گفتگو کر چکی ہوتی ہیں۔

’’ بہت بہت شکریہ، تمہیں واقعی پسند آیا یا ایسے ہی میرا دل رکھنے کو کہہ رہی ہو؟‘‘ اس نے حسب عادت سوال کیا۔

’’ نہیں واقعی بہت اچھا ہے۔‘‘

’’ میں نے فلاں برانڈ سے لیا تھا، سلمان تو کہہ رہے تھے کہ یہ اتنا اچھا نہیں ہے مگر مجھے پتا تھا کہ یہ سل کر اچھا لگے گا، مردوں کو کہاں کپڑوں کا پتا ہوتا ہے، ان کی ماننے لگو تو جانے کیسے اونترے اونترے سے کپڑے پہننے لگو گے۔ سارا کمال تو میرے درزی کا ہے، اس نے ہی سارے ششکے کر کے اس جوڑے کو اتنا کمال کا بنا دیا ہے۔ سلائی تو زیادہ لیتا ہے مگر کام اچھا کرتا ہے۔

سادہ سلائی کا جوڑا تین ہزار روپے میں سیتا ہے مگر میرا کوئی جوڑا عام ہوتا کہاں ہے سو وہ میرے جوڑے چھ سات ہزار سے کم میں نہیں سیتا۔ اوپر سے کمال دیکھو اپنی سہیلی کا کہ سر سے پاؤں تک میچنگ سے میں ہر جوڑے کی کافی ٹشن نکال لیتی ہوں، پرس تو خریدنا پڑتا ہے مگر جوتے تو میں اپنے جوڑوں کے میچنگ خود بنواتی ہوں، اسی لیے تو اتنا اچھی میچنگ ہوتی ہے۔ ( اس کے کہنے پر میں نے دیکھا تو واقعی جوتے اس کے قمیض کے کپڑے سے بنے ہوئے تھے۔ میاں کے پاس پیسہ ہو تو پھر بیویوں کے ایسے نخرے تو بنتے ہیں۔‘‘ اس نے شاید میرے سادہ سے جوڑے پر طنز کیا تھا، مجھے خود پر غصہ بھی آیا کہ یوں ماسیوں والے حلیے میں کامکار چھوڑ کر، مال آجانے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔

نسرین اور میں اس روز مال میں اتفاقاً ہی مل گئے تھے، ہم دونوں ہی اس وقت تنہا تھیں اور پندرہ بیس سال کے بعد کی ملاقات کو ہم یوں سرراہ کیسے سلام دعا کر کے ختم کر دیتے سو دونوں ایک کافی شاپ میں جا کر بیٹھیں اور کافی آرڈر کر دی۔ باقی تعارفی باتیں کھڑے کھڑے ہو گئی تھیں تو بیٹھ کر میں نے اس کے جوڑے کی تعریف کی تھی۔ ساری دنیا میں اتنے انقلابات آگئے تھے مگر نسرین کا سوائے عمر کے کچھ نہیں بدلا تھا۔ مجھے یاد آ گیا کہ نویں کلاس کے امتحانات ہو رہے تھے۔

 اس نے ایک سوال کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا کہ میںنے اس کا کیا جواب لکھا تھا۔ میں نے بتایا تو اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا… ’’ کیا تم نے ارکان اسلام کا جواب صرف پانچ الفاظ میں لکھاہے؟‘‘’’ ہاں ، کلمہ، نماز ، روزہ، زکوۃ اور حج!!‘‘ میںنے اسے بتایا۔’’ اور تمہیں لگتا ہے کہ اس جواب پر تمہیں پورے نمبر مل جائیں گے؟‘‘ اس نے طنز سے کہا۔ ’’ اچھا اب بتاؤ کہ تم نے پاکستان کے موسموں والے سوال کا کیا جواب لکھا ہے؟‘‘ اسے یونہی عادت تھی کہ کمرہء امتحان سے باہر نکل کر کبھی کسی سے اور کبھی کسی سے ایسے سوال کرتی تھی اور انھیں طنز سے کہتی کہ وہ تو مشکل سے ہی پاس کر پائیں گے۔’’ میںنے لکھا کہ پاکستان میں چار موسم ہیں، موسم سرما، موسم گرما، موسم بہار اور موسم سرما۔‘‘ میں نے بتایا تو اس کی آنکھوں میں ہنس ہنس کر آنسو آگئے۔

’’ ایک تو جواب اتنا مختصر، اوپر سے ترتیب بھی غلط!‘‘ اس نے ہنسی کے درمیان کہا۔

’’ جتنا سوال تھا، اتنا ہی میں نے جواب لکھ دیاحسب ضرورت اور ترتیب سے لکھنے کو تو کہا بھی نہیں گیا تھا۔‘‘ ’’ تم بالکل بے وقوف ہو، حسب ضرورت تو یوں کہہ رہی ہو جیسے تم نے خرید خرید کر لکھنا تھا، بھئی مفت میں لکھنا ہوتا ہے تو حسب توفیق لکھا کرو، حسب خواہش لکھا کرو۔ زیادہ لکھنے سے امتحانی پرچہ چیک کرنے والا متاثر ہوتا ہے اور زیادہ نمبر دیتا ہے۔‘‘ اس کی منطق نرالی تھی میںبحث نہیں کرتی تھی اور جب نتیجہ آیا تو میرے زیادہ نمبر آنے کا سن کر تو اس نے رو رو کر دریا بہا ڈالے کہ میں نے جو پرچہ چار شیٹ پر حل کیا تھا اس نے دس شیٹ پر حل کیا تھا۔

(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہے مگر

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا