ملک کے کن علاقوں میں گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔ بعض علاقوں میں گرج چمک اور ژالہ باری کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ کوئٹہ، چمن، پشین، مسلم باغ، ژوب، زیارت، بارکھان، سبی، قلات، کیچ، پنجگور، واشک، خاران، لسبیلہ اور خضدار میں بارش متوقع ہے، جبکہ گوادر میں چند مقامات پر بارش کے ساتھ ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کردی
سندھ کے مختلف شہروں کراچی، دادو، جامشورو، لاڑکانہ، جیکب آباد اور حیدرآباد میں بھی چند مقامات پر بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان، وزیرستان، ٹانک، لکی مروت، کرک اور پاراچنار میں بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پنجاب کے جنوبی اور وسطی اضلاع بھی اس موسمی نظام کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان، بھکر، لیہ، بہاولپور اور بہاولنگر میں بارش کی توقع ہے، جبکہ ملتان، خانیوال اور ساہیوال سمیت گرد و نواح میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آج مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان میں موسم سرد اور جزوی طور پر ابر آلود رہنے کی پیشگوئی ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے چند علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع
محکمہ موسمیات کے مطابق شہری موسمی صورتحال کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارش برفباری بلوچستان موسم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان محکمہ موسمیات علاقوں میں کے مختلف کا امکان ملک کے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔