بچوں کے کینسر کی بروقت تشخیص سے 85 فیصد تک شفایابی ممکن
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں ہر سال تقریباً 10 ہزار بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے، مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ بروقت تشخیص اور مکمل علاج نہ ملنے کے باعث بڑی تعداد زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بیماری کو ابتدائی مرحلے میں پہچان لیا جائے اور مناسب طبی سہولیات میسر ہوں تو بچوں کے کینسر کے بیشتر کیسز مکمل طور پر قابلِ علاج ہیں اور صحت یابی کی شرح 85 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی جانب سے منعقدہ ایک آگاہی سیشن میں ماہرین نے بتایا کہ عالمی سطح پر ہر سال تقریباً 4 لاکھ بچے اور نوجوان کینسر کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے اکثریت کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں پائی جاتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں جدید سہولیات اور فوری تشخیص کے باعث بچاؤ کی شرح 80 سے 85 فیصد تک ہے، جبکہ پاکستان جیسے ممالک میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم رہ جاتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ بچوں میں ہونے والے کینسر کی بڑی اقسام میں لیوکیمیا، لیمفوما، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے ٹیومرز، ہڈیوں کے کینسر، نیوروبلاسٹوما اور ریٹینو بلاسٹوما شامل ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ بچوں کا کینسر عموماً طرزِ زندگی سے منسلک نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ متعدی بیماری ہے۔ بروقت کیموتھراپی، سرجری اور ریڈیوتھراپی جیسے علاج مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ علاج میں تاخیر نہ ہو۔
ڈاکٹروں کے مطابق پاکستان میں کم شرحِ بچاؤ کی بڑی وجوہات میں بیماری کی علامات کو نظر انداز کرنا، ماہر مراکز تک رسائی میں مشکلات، تربیت یافتہ عملے کی کمی اور مالی دباؤ شامل ہیں۔ اکثر خاندان اس وقت اسپتال پہنچتے ہیں جب مرض شدت اختیار کر چکا ہوتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات ناگزیر ہیں تاکہ والدین ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے لیں۔
انڈس اسپتال کراچی میں ہر سال تقریباً ایک ہزار نئے بچوں کے کینسر کیسز رجسٹر ہوتے ہیں اور 2014 سے اب تک 16 ہزار سے زائد بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ ایک بچے کے مکمل علاج پر لاکھوں روپے خرچ آ سکتا ہے، تاہم اس ادارے میں یہ سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہے۔
سندھ اور بلوچستان میں شیئرڈ کیئر ماڈل کے تحت دیگر سرکاری اسپتالوں کے ساتھ شراکت داری بھی قائم کی گئی ہے تاکہ کراچی سے باہر کے بچوں کو بھی معیاری علاج میسر آ سکے۔
ماہرین صحت نے والدین، اساتذہ اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ بچوں کے کینسر سے متعلق غلط فہمیوں کو ختم کریں اور بروقت تشخیص کے پیغام کو عام کریں، کیونکہ بروقت اقدام ہی بچوں کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کے کینسر کینسر کی
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔