عمران خان طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں، قانونی ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے جیل سہولیات سے متعلق عمران خان کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے بہت کوشش کی، اب وہ ہمارے دھرنے سے رہا نہیں ہوں گے، علی امین گنڈاپور
فیصلے میں درخواست کو غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’درخواست گزار ٹرائل کی مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی تمام شکایات ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیل میں اٹھانے کا حق رکھتے ہیں، سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے، اور ان درخواستوں کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا‘۔
ماہرین آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ سپریم کورٹ میں اِن درخواستوں کا غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقت درخواست دے کر اِن کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کروایا جا سکتا ہے اور دوسرا چونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے تحت عمران خان صاحب کا طبی معائنہ ہوا ہے اور رپورٹس بھی آ گئی ہیں تو اب عمران خان کسی بھی ہائیکورٹ یا ماتحت عدالت میں طبی بنیادوں پر سزا کی معطلی یا ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کر سکتے ہیں لیکن میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر ان کے وکلا کو عدالت میں ثابت کرنا پڑے گا کہ مرض کی سنگینی کی نوعیت اِس درجے کی ہے کہ اُن کو ضمانت پر رہا کیا جانا ضروری ہے۔
کامران مرتضٰی ایڈووکیٹنامور ماہر قانون اور جمعیت علمائے اِسلام کے سینیٹر کامران مرتضٰی نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے اِس معاملے کو غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقت درخواست دے کر اِس معاملے کو سماعت کے لیے مقرر کروایا جا سکتا ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ اب یہ سیم معاملہ کسی اور عدالتی فورم پر نہیں اٹھایا جا سکتا۔
مزید پڑھیے: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا
ان کہنا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کا معائنہ ہوا ہے اور میڈیکل رپورٹ بھی آ گئی ہے تو اب وہ ہائیکورٹ یا کسی ماتحت عدالت میں اپنی سزا کی معطلی کی درخواست دے سکتے ہیں لیکن انہیں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کا مرض زندگی یا اعضا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
عمران شفیق ایڈووکیٹسپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ عمران خان کی یہ درخواست سائن ڈائی (غیر معیّنہ مدت) کے لیے ملتوی کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اِن درخواستوں کو حسبِ ضرورت کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں اور آپ کو نئے سرے سے درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کا طِبّی معائنہ بھی ہو گیا ہے اور رپورٹس بھی آ گئی ہیں تو اِن رپورٹوں کی بُنیاد پر عدالت میں عمران خان کی ضمانت یا اُن کی سزا معطلی درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: شیخ وقاص اکرم کا عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پر شدید ردعمل، جیل حکام پر سنگین الزامات
عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اب یہ عمران خان کے وکیلوں پر ہے کہ وہ اِن رپورٹس کی بنیاد پر کیا فیصلہ کرتے ہیں اور ان کو کس طرح سے استعمال کرتے ہیں۔ اب کسی بھی عدالتی فورم پر طبی بنیادوں پر عمران خان کی ضمانت یا سزا معطلی کی درخواستیں دائر ہو سکتی ہیں لیکن مرض کی سنگینی کے بارے میں میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر فیصلہ عدالت کرے گی۔
ذوالفقار احمد بُھٹّہ ایڈووکیٹسپریم کورٹ کے سینیئر وکیل ذوالفقار احمد بھٹہ ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا عمران خان کا کیس 100 فیصد کوالیفائی کرتا ہے کہ ان کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی یا ضمانت کی درخواست دائر کی جائے اور یہ مرض ایسا ہے کہ اِس کا علاج جیل کے ماحول میں نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان جیل سے سہولیات نکالنے کی دھمکی دیتا تھا مگر نواز شریف کہتا ہے کہ ایک کے بجائے 2 اے سی لگادو، مریم نواز
ذوالفقار احمد بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا ان کے وکلا کو فوری طور سزا معطلی کے لیے درخواست دائر کرنی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمران خان عمران خان کی صحت کا معاملہ عمران خان کی ضمانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عمران خان کی صحت کا معاملہ عمران خان کی ضمانت نہ مدت کے لیے ملتوی کے لیے ملتوی کی طبی بنیادوں پر کہ سپریم کورٹ سپریم کورٹ کے کرتے ہوئے کہا عمران خان کی ایڈووکیٹ نے ن درخواستوں کی درخواست درخواست دے سزا معطلی عدالت میں سکتے ہیں کسی بھی جا سکتا ہے کہ ا کیا جا ہے اور
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر