چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے جیل سہولیات سے متعلق عمران خان کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے بہت کوشش کی، اب وہ ہمارے دھرنے سے رہا نہیں ہوں گے، علی امین گنڈاپور

فیصلے میں درخواست کو غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’درخواست گزار ٹرائل کی مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی تمام شکایات ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیل میں اٹھانے کا حق رکھتے ہیں، سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے، اور ان درخواستوں کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا‘۔

ماہرین آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ کا مذکورہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ سپریم کورٹ میں اِن درخواستوں کا غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقت درخواست دے کر اِن کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کروایا جا سکتا ہے اور دوسرا چونکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے تحت عمران خان صاحب کا طبی معائنہ ہوا ہے اور رپورٹس بھی آ گئی ہیں تو اب عمران خان کسی بھی ہائیکورٹ یا ماتحت عدالت میں طبی بنیادوں پر سزا کی معطلی یا ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کر سکتے ہیں لیکن میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر ان کے وکلا کو عدالت میں ثابت کرنا پڑے گا کہ مرض کی سنگینی کی نوعیت اِس درجے کی ہے کہ اُن کو ضمانت پر رہا کیا جانا ضروری ہے۔

کامران مرتضٰی ایڈووکیٹ

نامور ماہر قانون اور جمعیت علمائے اِسلام کے سینیٹر کامران مرتضٰی نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے اِس معاملے کو غیر معیّنہ مدت کے لیے ملتوی کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقت درخواست دے کر اِس معاملے کو سماعت کے لیے مقرر کروایا جا سکتا ہے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ اب یہ سیم معاملہ کسی اور عدالتی فورم پر نہیں اٹھایا جا سکتا۔

مزید پڑھیے: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا

ان کہنا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمران خان کا معائنہ ہوا ہے اور میڈیکل رپورٹ بھی آ گئی ہے تو اب وہ ہائیکورٹ یا  کسی ماتحت عدالت میں اپنی سزا کی معطلی کی درخواست دے سکتے ہیں لیکن انہیں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ان کا مرض زندگی یا اعضا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

عمران شفیق ایڈووکیٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینیئر وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ عمران خان کی یہ درخواست سائن ڈائی (غیر معیّنہ مدت) کے لیے ملتوی کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اِن درخواستوں کو حسبِ ضرورت کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں اور آپ کو نئے سرے سے درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کا طِبّی معائنہ بھی ہو گیا ہے اور رپورٹس بھی آ گئی ہیں تو اِن رپورٹوں کی بُنیاد پر عدالت میں عمران خان کی ضمانت یا اُن کی سزا معطلی درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں۔

مزید پڑھیں: شیخ وقاص اکرم کا عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پر شدید ردعمل، جیل حکام پر سنگین الزامات

عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اب یہ عمران خان کے وکیلوں پر ہے کہ وہ اِن رپورٹس کی بنیاد پر کیا فیصلہ کرتے ہیں اور ان کو کس طرح سے استعمال کرتے ہیں۔ اب کسی بھی عدالتی فورم پر طبی بنیادوں پر عمران خان کی ضمانت یا سزا معطلی کی درخواستیں دائر ہو سکتی ہیں لیکن مرض کی سنگینی کے بارے میں میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر فیصلہ عدالت کرے گی۔

ذوالفقار احمد بُھٹّہ ایڈووکیٹ

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل ذوالفقار احمد بھٹہ ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا عمران خان کا کیس 100 فیصد کوالیفائی کرتا ہے کہ ان کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی یا ضمانت کی درخواست دائر کی جائے اور یہ مرض ایسا ہے کہ اِس کا علاج جیل کے ماحول میں نہیں کیا جا سکتا۔

 یہ بھی پڑھیے: عمران خان جیل سے سہولیات نکالنے کی دھمکی دیتا تھا مگر نواز شریف کہتا ہے کہ ایک کے بجائے 2 اے سی لگادو، مریم نواز

ذوالفقار احمد بھٹہ ایڈووکیٹ نے کہا ان کے وکلا کو فوری طور سزا معطلی کے لیے درخواست دائر کرنی چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمران خان عمران خان کی صحت کا معاملہ عمران خان کی ضمانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عمران خان کی صحت کا معاملہ عمران خان کی ضمانت نہ مدت کے لیے ملتوی کے لیے ملتوی کی طبی بنیادوں پر کہ سپریم کورٹ سپریم کورٹ کے کرتے ہوئے کہا عمران خان کی ایڈووکیٹ نے ن درخواستوں کی درخواست درخواست دے سزا معطلی عدالت میں سکتے ہیں کسی بھی جا سکتا ہے کہ ا کیا جا ہے اور

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار