حقائق سے واضح ہوتا ہے عمران خان نے لیونگ کنڈیشن پر اطمینان کا اظہار کیا: سپریم کورٹ کا تحریری حکمنامہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان / فائل فوٹو
سپریم کورٹ آف پاکستان نے فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ اور اٹارنی جنرل کی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بچوں سے ٹیلی فونک رابطے اور علاج کی سہولت کی یقین دہانیوں کے بعد جیل میں سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے غیر موثر درخواستیں نمٹا دیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 12 فروری کی سماعت کا 7 صفحات پر مشتمل تفصیلی حکم نامہ جاری کر دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی تین فوجداری درخواستوں کو بعد ازاں پیش رفت کی روشنی میں غیر مؤثرقرار دے کر غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔
تحریری حکم کے مطابق یہ درخواستیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دائر کردہ شکایت سے جنم لینے والے فوجداری مقدمے کے دوران عبوری اور طریقہ کار سے متعلق احکامات کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معائنہ کرنے کیلئے 2 رکنی میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا، ڈاکٹر ندیم قریشی اور محمد عارف خان نے ان کی آنکھوں کا چیک اپ کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ پہلی 2 درخواستیں ٹرائل کورٹ کے عبوری احکامات کے خلاف تھیں جن میں دائرہ اختیار سے متعلق اعتراض اور بعض گواہوں کو طلب کرنے کی درخواست کو مسترد کیا جانا شامل تھا، تاہم ٹرائل کورٹ مقدمہ مکمل کر کے 5 اگست 2023 کو حتمی فیصلہ سنا چکی ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی نوٹ کیا کہ اگست 2023 میں تین رکنی بینچ نے جیل میں قید کی صورتحال سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی، چونکہ سابقہ رپورٹ 2023 کی تھی اور اس وقت قید کی جگہ مختلف تھی اس لیے موجودہ حالات جاننے کے لیے تازہ رپورٹس حاصل کرنا ضروری سمجھا گیا چنانچہ سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل راولپنڈی کو تازہ رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی جبکہ بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا گیا تاکہ وہ ذاتی طور پر ملاقات کر کے الگ رپورٹ پیش کریں۔
حکم نامے کے مطابق دونوں رپورٹس عدالت میں پیش کی گئیں، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مجموعی طور پر قیدی کی رہائش، خوراک، سیل کی حالت، معمول کے طبی معائنے اور سیکیورٹی کے انتظامات تسلی بخش اور ایک دوسرے سے ہم آہنگ پائے گئے۔
عدالتی معاون کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنی سیکیورٹی، رہائشی سہولیات اور خوراک پر اطمینان کا اظہار کیا اور قید کی فطری حدود کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی ضروریات کو محدود اور معقول قرار دیا تاہم رپورٹ میں ان کی بینائی کی بگڑتی ہوئی حالت پر سنگین تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ قانون کے مطابق فوری اقدامات کیے جائیں گے اور ماہر امراض چشم پر مشتمل ٹیم سے 16 فروری 2026 سے پہلے طبی معائنہ کرایا جائے گا۔
عدالتی معاون نے یہ بھی سفارش کی کہ انہیں برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سے قانون اور سیکیورٹی ضوابط کے تحت رابطے کی اجازت دی جائے اور ذہنی صحت کے پیش نظر مطلوبہ کتابیں فراہم کی جائیں۔
اٹارنی جنرل نے دونوں معاملات میں سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
عدالت نے درخواستوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے سابقہ احکامات کے احترام میں انہیں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا تاکہ ہائی کورٹ اپیل کا فیصلہ کر لے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اگر اس دوران درخواست گزار کو کوئی شکایت ہو تو مناسب فورم ہائی کورٹ ہے جہاں ان کی اپیل زیرِ التوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کا اظہار کے مطابق عدالت نے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔