چاند پر کھو جانے والا تاریخی خلائی جہاز دوبارہ خبروں میں، معاملہ سلجھنے کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چاند کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھے جانے والے سوویت خلائی مشن لونا 9 کی پراسرار گمشدگی کا راز شاید اب کھلنے والا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق تقریباً 60 برس قبل 1966 میں یہ بغیر انسان کے بھیجا گیا مشن کامیابی سے چاند کی سطح پر نرم لینڈنگ کرنے والا پہلا انسانی ساختہ آلہ بنا تھا، جس نے خلا کی دوڑ میں سوویت یونین کو نمایاں برتری دلائی۔
اس کامیابی نے اس خدشے کو بھی غلط ثابت کیا کہ چاند کی سطح محض گردوغبار کا گہرا گڑھا ہے جہاں کوئی شے دھنس سکتی ہے۔
یاد رہے کہ لونا 9 نے چاند کی سطح سے حیران کن تصاویر زمین پر بھیجیں اور سائنسی برادری کو نئی معلومات فراہم کیں، تاہم لینڈر کی بیٹریاں محدود مدت تک کام کر سکتی تھیں اور تقریباً 75 گھنٹے بعد یہ خاموش ہو گیا۔
اس کے بعد اس کا درست مقام ایک معما بن گیا تھا۔ ریڈیو سگنلز کی غیر یقینی پیمائش، لینڈر کا چھوٹا حجم اور لینڈنگ کے بعد ممکنہ اچھال نے تلاش کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا۔
اب جدید مصنوعی ذہانت کی مدد سے اس تاریخی خلائی جہاز کے ممکنہ مقام کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ماہرین نے ناسا کے Lunar Reconnaissance Orbiter سے حاصل ہونے والی سیکڑوں تصاویر کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور ایک مخصوص علاقے کو تحقیق کے لیے منتخب کیا۔
کچھ مقامات پر سطح پر خراشوں جیسے نشانات دیکھے گئے ہیں جو ممکنہ طور پر لینڈر کے الٹنے یا سرکنے کا ثبوت ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ موجودہ کیمروں کی ریزولوشن اتنی زیادہ نہیں کہ تقریباً 58 سینٹی میٹر کے اس آلے کو واضح طور پر دیکھا جا سکے، تاہم سائنس دان پُرامید ہیں کہ آئندہ مشنز اور جدید ٹیکنالوجی اس سوال کا حتمی جواب فراہم کر سکیں گے۔
لونا 9 کی تلاش نہ صرف خلائی تاریخ کے ایک باب کو مکمل کرے گی بلکہ مستقبل کی تحقیق کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چاند کی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔