بی ایل اے علیحدگی پسند گروہ نہیں، خطرناک دہشتگرد تنظیم ہے، امریکا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی حالیہ کارروائیوں نے ظاہر کیا ہے کہ یہ گروہ اب روایتی علیحدگی پسند تنظیم کے بجائے جدید دہشتگردانہ طریقوں پر عمل پیرا ہے۔ 31 جنوری کو بلوچستان میں کیے گئے ہم آہنگ حملوں میں درجنوں شہری اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔
مزید پڑھیں: نوشکی، کالعدم بی ایل اے کی وحشیانہ کارروائی میں ایک بچے کے سوا خاندان کے تمام افراد شہید
امریکا کے ریٹائرڈ آرمی کرنل اور سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر جو بکینو (Joe Buccino) نے کہا ہے کہ بی ایل اے کے ہدف عام شہری، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ اور اہم بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہیں، جبکہ مقامی عوام کے زیادہ تر مطالبات روزگار، بہتر گورننس اور سیکیورٹی سے متعلق ہیں۔ سروے اور تحقیقی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بلوچستان کے لوگ قومی شناخت کے حامی ہیں اور علیحدگی کے خواہاں نہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی ایم، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا کا استعمال کیا، کتاب میں انکشافات
امریکی کرنل نے اپنے تجزیے میں زور دیا کہ بی ایل اے کی کارروائیاں نہ صرف امن اور ترقی کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ علاقے میں اقتصادی منصوبوں، خاص طور پر چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے لیے خطرہ بھی بن رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Joe Buccino امریکا بی ایل اے دہشتگرد تنظیم علیحدگی پسند گروہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بی ایل اے دہشتگرد تنظیم علیحدگی پسند گروہ بی ایل اے
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔