مغربی کنارے کی ملکیت: اقوام متحدہ نے اسرائیلی اقدام غیر قانونی اور خطرناک قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمین کو ریاستی ملکیت قرار دینے کے لیے نئی قانونی پالیسی کی منظوری پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے، کیونکہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے منافی اور خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد زمین سے متعلق قانونی تنازعات کو واضح اور شفاف انداز میں حل کرنا ہے، تاہم فلسطینی قیادت اور عالمی اداروں نے اسے الحاق کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات دو ریاستی حل کی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں نئی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔
پاکستان نے بھی اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یورپی یونین نے بھی اسرائیل سے پالیسی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ سعودی عرب، مصر، قطر اور اردن سمیت کئی عرب ممالک نے اسے امن عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
اُردن کے فرمانروا عبداللہ دوم نے متنبہ کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 1967 سے اسرائیلی قبضے میں موجود مغربی کنارے میں لاکھوں فلسطینی آباد ہیں جبکہ بڑی تعداد میں اسرائیلی آبادکار بھی وہاں رہائش پذیر ہیں۔
حالیہ پیش رفت کے تناظر میں مسجد اقصیٰ کے اطراف سیکورٹی سخت کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس سے خدشہ ہے کہ رمضان کے دوران حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری پر بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے میں فعال کردار ادا کرے تاکہ خطے کو ایک نئے بحران سے بچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔