شبیر شاہ کی درخواست ضمانت کی سماعت ملتوی کرنا نظربندی کو طول دینے کا ہتھکنڈا ہے، ڈی ایف پی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارتی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے فیصلے انصاف پر مبنی ہونے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے اپنے پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت کی سماعت ملتوی کرنے کے بھارتی عدالت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ان کی نظربندی کو طول دینے کا پرانا ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایف پی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارتی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے فیصلے انصاف پر مبنی ہونے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قیدیوں سے متعلق مقدمات میں حتمی فیصلے کو ملتوی کرنے اور تاخیری حربے استعمال کرنے کی بھارتی عدالتوں کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ایڈوکیٹ ارشد اقبال نے کہا کہ سماعت جو فروری کے دوسرے ہفتے کے لیے مقرر تھی، اب 25 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے، بنچ نے این آئی اے کو شبیر شاہ کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرنے کے لیے اضافی وقت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے زیر التواء درخواست پر فیصلہ کرنے کے بجائے عدالت نے این آئی اے کو مزید وقت دیا ہے، جس نے ابھی تک شبیر شاہ کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا ہے۔ ڈی ایف پی کے ترجمان نے کہا کہ شبیر شاہ کو 1968ء سے بغیر کسی ثبوت کے الزامات کا سامنا ہے اور دہلی کی تہاڑ جیل میں آٹھ سال گزرنے کے بعد بھی کسی عدالت نے ان کے خلاف الزامات کو ثابت نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ شبیر شاہ اور دیگر حریت رہنماوں کو صرف اور صرف تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی وکالت کرنے اور مظلوم کشمیری عوام کی آواز بننے پر سزا دی جا رہی ہے۔ ڈی ایف پی نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا موثر نوٹس لیں اور شبیر احمد شاہ اور دیگر کشمیری نظربندوں کی جلد رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈی ایف پی نے کہا کہ شبیر شاہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔