تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ایران سے مذاکرات میں بالواسطہ شامل رہوں گا: ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والے اہم مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شریک ہوں گے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات نہایت اہم نوعیت کے ہیں اور وہ براہِ راست میز پر موجود نہیں ہوں گے لیکن پسِ پردہ کردار ادا کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایران نے مذاکرات کے دوران سخت مؤقف اپنایا، تاہم گزشتہ برس امریکی کارروائیوں کے بعد تہران کو اپنے رویے کے ممکنہ نتائج کا اندازہ ہو گیا۔ ان کے بقول اس بار ایران زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہا ہے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کسی تنازع میں فریق نہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق اہم بات چیت جنیوا میں متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔