سال 2026 کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ثمرہ فاطمہ: سال 2026 کا پہلا سورج گرہن آج ہوگا ,یہ اینولر سورج گرہن ہو گا, جسے عام طور پر “رِنگ آف فائر” کہا جاتا ہے۔
اس دوران چاند اپنے بیضوی مدار میں گردش کرتے ہوئے سورج کے عین سامنے آ جائے گا، تاہم وہ سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ نہیں سکے گا۔
ماہرین کے مطابق گرہن کے وقت سورج کا بیرونی حصہ روشن اور سرخی مائل دائرے کی شکل میں نظر آئے گا، جس کے باعث اسے رنگ آف فائر کا نام دیا جاتا ہے۔ مکمل سورج گرہن کا منظر صرف انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا جبکہ یہ گرہن پاکستان میں قابلِ مشاہدہ نہیں ہوگا۔
گاڑیوں کی نمبر پلیٹس ڈجٹ نمبر میں اضافہ،3کی بجائے4 ہندسے ہونگے
پاکستانی وقت کے مطابق سورج گرہن کا آغاز دوپہر 2 بج کر 56 منٹ پر ہوگا، یہ شام 5 بج کر 12 منٹ پر اپنے عروج پر پہنچے گا جبکہ رات 7 بج کر 28 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔
ماہرین فلکیات نے خبردار کیا ہے کہ سورج گرہن کو براہِ راست آنکھ سے دیکھنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے خصوصی حفاظتی چشموں کا استعمال ضروری ہے۔
لاہور میں 260 ٹریفک حادثات؛ ایک شخص جاں بحق ،300 افراد زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔