حکمرانی کیلئے لچک اور سیاسی بلوغت ضروری،جیل غیرت سے کاٹی جاتی ہے:صدر زرداری
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ میں سات پشتوں سے کاشتکار ہوں ،کسانوں کو سہولیات کی فراہمی وقت کا تقاضا ہے ۔
وہاڑی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ بھارت کی پانی بند کرنے کی دھمکی ایک ٹریلر ہے۔
صدر ملکت نے کہا کہ زرعی شعبے کی بہتری سے ہی ملک ترقی کر سکتاہے،ہمیں پانی کا مؤثر استعمال کرنا چاہیے۔
گاڑیوں کی نمبر پلیٹس ڈجٹ نمبر میں اضافہ،3کی بجائے4 ہندسے ہونگے
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان بنانے میں سندھ سب سے آگے تھا،کشمیر کی حیثیت ختم کرنے پرایک وزیراعظم نے کہا کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ایک انچ پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا،شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے مستقبل کے خطرات کو بھانپتے ہوئے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا،پی ٹی آئی کے 4 سالہ دور میں ملک جمود کا شکار رہا۔
صدرمملکت نے کہا کہ حکمرانی کیلئے لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہے،سیاسی تعاون انتہاپسندانہ رجحانات روکنے میں مدد گار ہوتا ہے،مسلم لیگ ن کے ساتھ مسقبل میں بھی چلنے کا ارادہ ہے،جیل غیرت سے کاٹی جاتی ہے۔
لاہور میں 260 ٹریفک حادثات؛ ایک شخص جاں بحق ،300 افراد زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔