سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے ریسکیو اداروں کو بھی طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
کراچی:
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن نے ریسکیو اداروں کو بھی طلب کرلیا۔
کمیشن کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق ایدھی فاؤنڈیشن، چھیپا ویلفیئر اور دیگر متعلقہ ریسکیو اداروں کو طلب کیا گیا ہے تاکہ واقعے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کی جاسکیں۔
جوڈیشل کمیشن نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ 18 فروری کو کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور واقعے سے متعلق اپنا مؤقف اور ریکارڈ فراہم کریں۔
کمیشن کے مطابق ریسکیو حکام کے بیانات بھی قلم بند کیے جائیں گے تاکہ سانحہ گل پلازہ کی مکمل تحقیقات ممکن بنائی جاسکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔
گزشتہ روز سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کی پہلی سماعت جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے دفتر میں ہوئی تھی۔ اس موقع پر کمیشن کے ممبران اور متاثریں موجود تھے۔
کمیشن کی پہلی سماعت ہوئی میں 23 متاثرین نے بیانات قلم بند کیے گئے تھے، لوگ بیان دیتے ہوئے روپڑے اور انہوں ںے امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، عینی شاہدین نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا آگ بجھانے کے لیے جدید آلات ہی نہیں تھے، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، سانحے میں سراسر غلفت کا مظاہرہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ جوڈیشل کمیشن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔