مقبوضہ کشمیر، اسکولوں میں کشمیری زبان کے اساتذہ کی 80 فیصد آسامیاں خالی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق کشمیر ڈویژن کے ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں 27 کشمیری لیکچراروں کی منظور شدہ آسامیوں میں سے صرف پانچ پر ہی اساتذہ تعینات ہیں جبکہ 9 اضلاع میں باقی 22 آسامیاں خالی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے اسکولوں میں کشمیری زبان کے اساتذہ کی 80فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سرینگر کے قانون ساز مبارک گل کے ایک سوال کے تحریری جواب میں محکمہ سکول ایجوکیشن نے کشمیر اسمبلی کو بتایا ہے کہ وادی کشمیر کے اسکولوں میں کشمیری زبان کے منظور شدہ اساتذہ کی 80 فیصد سے زائد آسامیاں خالی ہیں۔ جواب میں بتایا گیا کہ کشمیر ڈویژن کے ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں 27 کشمیری لیکچراروں کی منظور شدہ آسامیوں میں سے صرف پانچ پر ہی اساتذہ تعینات ہیں جبکہ 9 اضلاع میں باقی 22 آسامیاں خالی ہیں۔ تحریری جواب میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں ڈویژن کے اسکولوں میں کشمیری زبان کو بطور مضمون نہیں پڑھایا جا رہا ہے۔ کشمیری کو 2000ء کی دہائی کے اوائل میں پرائمری اور مڈل سرکاری اسکولوں میں ایک مضمون کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا اور بعد ازاں 2018-19ء کے تعلیمی سیشن سے نویں اور دسویں جماعت میں بھی کشمیری زبان کی تعلیم رائج کی گئی تھی۔ کشمیری زبان کے اساتذہ کی منظور شدہ تعداد جو 2009ء سے پہلے 11 تھی کو 2019ء میں بڑھا کر 27 کر دیا گیا تھا تاہم ان میں سے 80فیصد آسامیاں خالی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسکولوں میں کشمیری زبان آسامیاں خالی ہیں کشمیری زبان کے اساتذہ کی
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔