بھارت میں کشمیری طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک جاری، داخلوں میں 67 فیصد کمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
رپورٹ کے مطابق چند برس قبل ریاست میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی تعداد تقریبا 6 ہزار تھی جو اب کم ہو کر لگ بھگ 2 ہزار رہ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مودی کے بھارت میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلبہ کو مسلسل امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس کے باعث بھارت بھر میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ریاست اترکھنڈ میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی تعداد میں تقریبا 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چند برس قبل ریاست میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی تعداد تقریبا 6 ہزار تھی جو اب کم ہو کر لگ بھگ 2 ہزار رہ گئی ہے۔ 2019ء کے پلوامہ واقعے کے بعد کشمیری طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہراسانی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بعض کشمیر طلبہ اور تاجروں نے عدم تحفظ کے باعث دیگر ریاستوں میں منتقل ہونے یا تعلیم ترک کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات تعلیمی اداروں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
فائل فوٹو۔ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔
بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔
والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔